مصطفیٰ کمال نے کیا غلط کہا؟ غیر محفوظ جنسی تعلقات اب بھی ایچ آئی وی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے

اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال اب تک تقریباً 6,000 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ مرد ہیں، جبکہ ماہرین صحت کے مطابق غیر محفوظ جنسی تعلقات وائرس کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں اور مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مردوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی شرح دیگر گروہوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے حالیہ بیان پر ہونے والی تنقید کے باوجود دستیاب اعداد و شمار اور ایچ آئی وی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وبا کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور غیر محفوظ جنسی تعلقات، متعدد جنسی ساتھیوں اور منشیات کے زیر اثر سیکس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

قومی ایڈز کنٹرول پروگرام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں ایچ آئی وی کے 14,182 نئے کیسز رجسٹر ہوئے۔ ان میں 8,386 بالغ مرد، 3,314 بالغ خواتین، 1,748 بچے اور 734 خواجہ سرا افراد شامل تھے۔

اس طرح گزشتہ سال رجسٹر ہونے والے مجموعی کیسز میں بالغ مردوں کا تناسب تقریباً 59 فیصد، بالغ خواتین کا 23 فیصد، بچوں کا 12 فیصد اور خواجہ سرا افراد کا پانچ فیصد سے زیادہ تھا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک صنفی گروہ میں سب سے زیادہ کیسز بالغ مردوں میں رپورٹ ہوئے۔

رواں سال کے دستیاب اعداد و شمار میں بھی مردوں کی تعداد مجموعی کیسز کے 60 فیصد سے زیادہ بتائی جا رہی ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوجوان اور بالغ مرد ایچ آئی وی کی تیزی سے پھیلتی وبا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بنتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد، جنہیں طبی اور تحقیقی اصطلاح میں ایم ایس ایم کہا جاتا ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل ہیں۔ سماجی بدنامی اور قانونی و معاشرتی دباؤ کے باعث اس گروہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد اپنی شناخت اور جنسی رویوں کو ظاہر نہیں کرتے، جس سے بروقت ٹیسٹنگ، احتیاط اور علاج تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔

نوجوان مردوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی وجہ کرسٹل میتھ یا آئس کے زیر اثر جنسی تعلقات ہیں، جنہیں دنیا بھر میں کیم سیکس کہا جاتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے افراد میں جنسی خواہش، بے خوفی اور طویل دورانیے تک جنسی سرگرمی بڑھ سکتی ہے، لیکن اس دوران فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور احتیاطی رویہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے کئی افراد نے بتایا کہ آئس کے نشے میں وہ کنڈوم کے استعمال، جنسی ساتھیوں کی تعداد اور بیماریوں کی منتقلی کے خطرے کو نظر انداز کرتے رہے۔ ایسے تعلقات بعض اوقات کئی گھنٹے جاری رہتے ہیں اور ایک سے زیادہ افراد اس میں شامل ہوتے ہیں، جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ مقعدی جنسی تعلق میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کا خطرہ اندام نہانی کے ذریعے جنسی تعلق کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مقعد کی اندرونی جھلی نازک ہوتی ہے اور اس میں خراشیں یا معمولی زخم آسانی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان زخموں کے ذریعے وائرس کو خون میں داخل ہونے کا راستہ مل جاتا ہے۔

جب ایسا تعلق کنڈوم کے بغیر، متعدد جنسی ساتھیوں کے ساتھ اور آئس یا دیگر منشیات کے زیر اثر قائم کیا جائے تو خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی امتزاج نوجوان مردوں، خواجہ سرا افراد، خواتین سیکس ورکرز اور ان کے جنسی ساتھیوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا اہم سبب بن رہا ہے۔

چھتیس سالہ عرفان احمد، جن کا نام شناخت چھپانے کے لیے تبدیل کیا گیا، اپنی ملازمت کے خاتمے، سماجی تنہائی، قانونی مسائل اور ایچ آئی وی کا شکار ہونے کا ذمہ دار آئس کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ کرسٹل میتھ کے زیر اثر غیر محفوظ جنسی تعلقات کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے بہت سے مرد طویل اور بے قابو جنسی سرگرمی کے لیے آئس استعمال کرتے ہیں۔ نشے کے دوران کنڈوم کا استعمال تقریباً ختم ہو جاتا ہے اور کسی شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنے لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کیا۔

تاہم کیم سیکس کا رجحان صرف ہم جنس تعلقات رکھنے والے مردوں تک محدود نہیں۔ خواجہ سرا سیکس ورکرز، خواتین سیکس ورکرز اور بعض مرد و خواتین بھی جنسی تعلقات کے دوران کرسٹل میتھ استعمال کر رہے ہیں، جس سے وائرس کے زیادہ خطرے والے گروہوں سے عام آبادی تک منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزارت صحت کے سابق ایچ آئی وی مشیر ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق پاکستان میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد ایچ آئی وی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل ہیں اور اس کمیونٹی میں میتھ ایمفیٹامین کا بڑھتا استعمال وبا کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

ان کے مطابق ایچ آئی وی کی منتقلی کا خطرہ جنسی تعلقات اور ساتھیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ بڑھتا ہے، جبکہ کنڈوم کا باقاعدہ استعمال خطرے کو کم کرتا ہے۔ آئس کے زیر اثر افراد اکثر تحفظ اور بیماری سے بچاؤ کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے بارے میں حقائق بیان کرنے کو سماجی یا اخلاقی تنقید سمجھنے کے بجائے صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کسی فرد یا کمیونٹی کو بدنام کیے بغیر یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات، متعدد ساتھی اور کیم سیکس پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب بن چکے ہیں۔

ان کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے نوجوانوں کو درست معلومات، رضاکارانہ اور خفیہ ٹیسٹنگ، کنڈوم، پری ایکسپوژر پروفیلیکسیس یعنی PrEP اور نشے سے نجات کی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ ایچ آئی وی مثبت افراد کو فوری اینٹی ریٹرو وائرل علاج سے جوڑنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند رہ سکیں اور وائرس کی مزید منتقلی کا خطرہ کم ہو-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں