کراچی: کراچی میں ریبیز کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے، جہاں اجمیر نگری کی رہائشی 28 سالہ خاتون کو تشویشناک حالت میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) منتقل کیا گیا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق خاتون میں ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
جناح اسپتال کے شعبۂ حادثات کے سربراہ ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق خاتون کو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا، تاہم اینٹی ریبیز ویکسین نہ لگنے کے باعث وائرس نے جان لیوا شکل اختیار کر لی۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو اجمیر نگری سے جناح اسپتال لایا گیا، جہاں یہ جناح اسپتال میں رواں سال ریبیز کا چھٹا کیس رپورٹ ہوا ہے۔
صحت حکام کے مطابق سندھ میں رواں سال اب تک ریبیز کے 17 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 11 کیسز انڈس اسپتال جبکہ 6 جناح اسپتال میں سامنے آئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی میں رواں سال اب تک کتے کے کاٹنے کے 25 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے جا چکے ہیں، جو شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور مؤثر کنٹرول اقدامات کی کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ریبیز سو فیصد قابلِ علاج مرض ہے، بشرطیکہ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو اچھی طرح دھو کر فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبیولن لگوایا جائے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔\
ماہرین نے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے، ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے اور عوام میں آگاہی مہم کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔