کراچی: سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کی گورننگ باڈی نے سیسی کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا (کے وی ایس ایس) سائٹ اسپتال میں علاج کے دوران ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے بچوں کے علاج، ادویات اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جبکہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر عملے کے خلاف معطلی اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی کی بھی توثیق کر دی گئی۔
یہ فیصلے بدھ کو سندھ کے وزیر محنت، انسانی وسائل و سماجی تحفظ اور چیئرمین سیسی سعید غنی کی زیر صدارت ہونے والے سیسی گورننگ باڈی کے اجلاس میں کیے گئے، جس میں مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ اور 2025-26 کے نظرثانی شدہ بجٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاہم ارکان کی جانب سے بعض تجاویز اور تحفظات سامنے آنے پر بجٹ کی منظوری 17 جولائی تک مؤخر کر دی گئی۔
اجلاس میں ولیکا اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق اب تک اسپتال سے علاج حاصل کرنے والے 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد گورننگ باڈی نے متفقہ طور پر 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کی منظوری دی تاکہ متاثرہ بچوں کو زندگی بھر علاج، ادویات، طبی معائنے اور دیگر فلاحی سہولتیں بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں صوبائی محتسب کی ہدایات پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کی روشنی میں 37 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر اہلکاروں کے خلاف معطلی اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی کی توثیق کی گئی۔
حکام کے مطابق کارروائی ان تمام ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل ملازمین اور انتظامی افسران کے خلاف کی جا رہی ہے جو اس عرصے میں اسپتال میں تعینات تھے، جب بچوں میں ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں سرنجوں اور دیگر ڈسپوزیبل طبی سامان کی شدید قلت، انفیکشن سے بچاؤ کے ناقص انتظامات اور ممکنہ طور پر سرنجوں کے دوبارہ استعمال جیسے سنگین خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت اس سانحے کی مکمل شفاف تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ دار کسی بھی شخص کو، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر ہو، کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 28 اکتوبر 2025 کو ابتدائی اطلاعات موصول ہوتے ہی انکوائری کمیٹی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی اور بعد ازاں اسپتال سے علاج کرانے والے تمام بچوں کی اسکریننگ کرائی گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا تمام بچے اسی عرصے میں متاثر ہوئے یا بعض بچے پہلے سے ایچ آئی وی کا شکار تھے۔ ان کے بقول، جس مدت کے دوران یہ کیسز سامنے آئے، اس دوران ڈیوٹی انجام دینے والے تمام متعلقہ افسران، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جہاں صوبائی حکومت سے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی، متاثرہ بچوں کے لیے تاحیات علاج اور مناسب معاوضے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔
سیسی حکام کا کہنا ہے کہ نئے اینڈومنٹ فنڈ سے متاثرہ بچوں کو جدید طبی سہولتیں، ادویات، فالو اپ ٹیسٹ اور ان کے خاندانوں کو فلاحی معاونت فراہم کی جائے گی، جن میں اکثریت کم آمدنی والے مزدور خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سیسی کمشنر ہادی بخش کلہوڑو، عبدالجبار میمن، خلیل بلوچ، محمد خان ابڑو، زہرہ خان، مختیار احمد اعوان، عبدالواحد شورو، میڈیکل ایڈوائزر کامران اعوان، ڈاکٹر سعادت میمن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور سندھ حکومت متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ انہیں انصاف، بہترین علاج اور ہر ممکن فلاحی معاونت فراہم کی جائے گی۔
سیسی کا ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے 2 ارب روپے کا فنڈ قائم، 37 ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی توثیق
کراچی: سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کی گورننگ باڈی نے سیسی کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا (کے وی ایس ایس) سائٹ اسپتال میں علاج کے دوران ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے بچوں کے علاج، ادویات اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جبکہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر عملے کے خلاف معطلی اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی کی بھی توثیق کر دی گئی۔
یہ فیصلے بدھ کو سندھ کے وزیر محنت، انسانی وسائل و سماجی تحفظ اور چیئرمین سیسی سعید غنی کی زیر صدارت ہونے والے سیسی گورننگ باڈی کے اجلاس میں کیے گئے، جس میں مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ اور 2025-26 کے نظرثانی شدہ بجٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تاہم ارکان کی جانب سے بعض تجاویز اور تحفظات سامنے آنے پر بجٹ کی منظوری 17 جولائی تک مؤخر کر دی گئی۔
اجلاس میں ولیکا اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق اب تک اسپتال سے علاج حاصل کرنے والے 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے بعد گورننگ باڈی نے متفقہ طور پر 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کی منظوری دی تاکہ متاثرہ بچوں کو زندگی بھر علاج، ادویات، طبی معائنے اور دیگر فلاحی سہولتیں بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں صوبائی محتسب کی ہدایات پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کی روشنی میں 37 ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اور دیگر اہلکاروں کے خلاف معطلی اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی کی توثیق کی گئی۔
حکام کے مطابق کارروائی ان تمام ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل ملازمین اور انتظامی افسران کے خلاف کی جا رہی ہے جو اس عرصے میں اسپتال میں تعینات تھے، جب بچوں میں ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں سرنجوں اور دیگر ڈسپوزیبل طبی سامان کی شدید قلت، انفیکشن سے بچاؤ کے ناقص انتظامات اور ممکنہ طور پر سرنجوں کے دوبارہ استعمال جیسے سنگین خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہیں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت اس سانحے کی مکمل شفاف تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ دار کسی بھی شخص کو، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر ہو، کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ 28 اکتوبر 2025 کو ابتدائی اطلاعات موصول ہوتے ہی انکوائری کمیٹی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی اور بعد ازاں اسپتال سے علاج کرانے والے تمام بچوں کی اسکریننگ کرائی گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا تمام بچے اسی عرصے میں متاثر ہوئے یا بعض بچے پہلے سے ایچ آئی وی کا شکار تھے۔ ان کے بقول، جس مدت کے دوران یہ کیسز سامنے آئے، اس دوران ڈیوٹی انجام دینے والے تمام متعلقہ افسران، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جہاں صوبائی حکومت سے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے متعلق تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی، متاثرہ بچوں کے لیے تاحیات علاج اور مناسب معاوضے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔
سیسی حکام کا کہنا ہے کہ نئے اینڈومنٹ فنڈ سے متاثرہ بچوں کو جدید طبی سہولتیں، ادویات، فالو اپ ٹیسٹ اور ان کے خاندانوں کو فلاحی معاونت فراہم کی جائے گی، جن میں اکثریت کم آمدنی والے مزدور خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، سیسی کمشنر ہادی بخش کلہوڑو، عبدالجبار میمن، خلیل بلوچ، محمد خان ابڑو، زہرہ خان، مختیار احمد اعوان، عبدالواحد شورو، میڈیکل ایڈوائزر کامران اعوان، ڈاکٹر سعادت میمن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور سندھ حکومت متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ انہیں انصاف، بہترین علاج اور ہر ممکن فلاحی معاونت فراہم کی جائے گی۔