موٹاپا، ورزش سے گریز، دیر سے تشخیص کینسر سے بچاؤ اور علاج میں بڑی رکاوٹیں قرار، عالمی ادارۂ صحت

جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ موٹاپا، ورزش سے گریز، کینسر کی دیر سے تشخیص، علاج اور تشخیصی سہولتوں تک محدود رسائی اور تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی دنیا بھر میں کینسر سے بچاؤ اور مؤثر علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن چکی ہیں، جبکہ دنیا کا کوئی بھی ملک موٹاپے میں اضافے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

عالمی ادارۂ صحت کی گلوبل اسٹیٹس رپورٹ آن کینسر 2026 کے مطابق 2010 کے بعد دنیا بھر میں زائد وزن اور موٹاپے کی شرح 31 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے موٹاپا کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے قابلِ تدارک خطرات میں شامل ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینسر سے بچاؤ کے شعبے میں صرف دو بڑے خطرات، یعنی موٹاپا اور جسمانی غیرفعالیت یا ورزش سے گریز، مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر ممالک، خصوصاً کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک، موٹاپے پر قابو پانے کے لیے مؤثر پالیسیاں بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ نصف سے بھی کم ممالک کے پاس جسمانی سرگرمی کے فروغ کے لیے باقاعدہ اور مالی وسائل سے لیس قومی پالیسی موجود ہے، جبکہ دنیا بھر میں 31 فیصد بالغ افراد مطلوبہ جسمانی سرگرمی نہیں کرتے اور 80 فیصد نوجوان بھی مناسب ورزش سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کینسر کے مریضوں کے لیے درد کم کرنے اور معاون نگہداشت (Palliative Care) کی سہولتیں بھی انتہائی ناکافی ہیں۔ اگرچہ 69 فیصد حکومتیں اس مقصد کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہیں، لیکن ہر سال ایسے 7 کروڑ 30 لاکھ افراد کو ان خدمات کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں سے صرف 14 فیصد کو ہی یہ سہولتیں میسر آتی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف اقدامات ان چند شعبوں میں شامل ہیں جہاں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2010 کے بعد عالمی سطح پر تمباکو کے استعمال میں 27 فیصد کمی آئی ہے اور اب 155 ممالک عالمی ادارۂ صحت کی کم از کم ایک مؤثر تمباکو کنٹرول پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں، تاہم نامکمل عمل درآمد مزید پیش رفت میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اس کے برعکس شراب نوشی پر قابو پانے اور صحت مند غذا کے فروغ کے شعبوں میں پیش رفت سست رہی ہے۔ اگرچہ بعض ممالک نے میٹھے مشروبات پر ٹیکس عائد کیا ہے، لیکن بچوں کو غیر صحت بخش خوراک کی تشہیر سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اب بھی محدود ہیں، جبکہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بھی کئی ممالک میں مطلوبہ سطح سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویکسینیشن پروگراموں کے باعث انفیکشن سے منسلک کینسر میں نمایاں کمی آئی ہے اور ایسے کینسرز کا تناسب 2008 میں 16 فیصد سے کم ہو کر 2022 میں 10 فیصد رہ گیا ہے۔ تاہم اگرچہ 85 فیصد ممالک نے HPV ویکسین اپنے قومی پروگراموں میں شامل کر لی ہے، دنیا بھر میں لڑکیوں میں اس کی کوریج اب بھی صرف 31 فیصد ہے۔

رپورٹ میں بروقت تشخیص کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ بیشتر ممالک نے بریسٹ اور سروائیکل کینسر کی جلد تشخیص کو اپنے قومی پروگراموں کا حصہ بنایا ہے، لیکن کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں صرف 28 فیصد بریسٹ کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہو پاتی ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 91 فیصد ہے۔ اسی طرح سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں 26 فیصد جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں 74 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً 47 فیصد آبادی کو بنیادی کینسر تشخیصی سہولتیں بھی دستیاب نہیں، جس سے بیماری کی تشخیص اور علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ 23 کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اب بھی ریڈیوتھراپی کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ ضروری کینسر ادویات کی دستیابی بھی غریب ممالک میں انتہائی محدود ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کینسر کے شعبے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر تربیت یافتہ طبی عملے کی شدید کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں کینسر کے شعبے کی افرادی قوت امیر ممالک کے مقابلے میں دو سے پانچ گنا کم ہے، جبکہ موجودہ طبی عملہ بھی بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور ملازمت چھوڑنے کے رجحان کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ 2010 کے بعد قومی کینسر کنٹرول پروگرام رکھنے والے ممالک کی تعداد 50 فیصد سے بڑھ کر 82 فیصد ہو گئی ہے، لیکن صرف 28 فیصد ممالک نے جامع کینسر خدمات کو اپنی یونیورسل ہیلتھ کوریج کا حصہ بنایا ہے، جبکہ دنیا بھر میں کینسر سے متاثرہ 50 سے 60 فیصد خاندان علاج کے اخراجات کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں