اطالوی یونیورسٹی کے پاکستانی محقق اور این ای ڈی یونیورسٹی کے گریجویٹ نے گندے پانی کو صاف کرنے والا سستا ‘سولر پلازما’ سسٹم تیارکرلیا


کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس سنگین مسئلے کو جنگوں کی وجہ بھی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حب اور دنیا کے بڑوں شہروں میں شامل کراچی میں بھی پانی کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے۔


پاکستان اور دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور فیکٹریوں کے زہریلے پانی سے بگڑتی ہوئی ماحولیاتی صورتحال کے پیشِ نظر این ای ڈی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور اٹلی کی مشہور پاڈوا یونیورسٹی میں تعینات پاکستانی محقق ڈاکٹر مبشر سلیم نے گندے پانی کو صاف کرنے والا سستا ‘سولر پلازما’ سسٹم تیارکرلیا ہے۔ یہ سولر پلازما ایک انتہائی سستا اور جدید واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم ہے، جو گندے اور زہریلے پانی کو فوراً استعمال کے قابل بنا سکتا ہے۔


ڈاکٹر مبشر سلیم کا کہنا ہے کہ ہماری کوسٹل لائنز (ساحلی پٹی) فیکٹریوں اور سیوریج کے کیمیکل زدہ پانی کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ زہریلے فضلے کی وجہ سے مچھلیاں ساحلوں سے دور جا رہی ہیں، جس کے باعث غریب ماہی گیروں کو شکار کے لیے گہرے سمندر میں جانا پڑتا ہے اور وہ اکثر نادانستہ طور پر دوسرے ممالک کی سمندری حدود میں داخل ہو کر گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے فیکٹریاں اپنے پانی کو ری سائیکل کر کے سمندر کو آلودگی سے بچا سکتی ہیں اور پانی خریدنے پر اٹھنے والا اپنا بھاری سرمایہ بھی بچا سکتی ہیں۔


ڈاکٹر مبشر نے بتایا کہ مادہ کی چوتھی حالت یعنی ‘پلازما’ (جیسے آسمان پر بجلی چمکتی ہے) کو ہائی وولٹیج کے ذریعے سسٹم میں پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ پلازما پانی میں موجود کیمیکلز اور گندگی کو کسی بھی بیرونی کیمیکل کے بغیر خود بخود فوراً ختم کر دیتا ہے۔ اس میں ایکٹیویٹڈ کاربن کا استعمال کیا گیا ہے جس کی کارکردگی پلازما کے ساتھ مل کر 60 گنا بڑھ جاتی ہے اور اسے بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔


ڈاکٹر مبشر کے مطابق دنیا بھر میں استعمال ہونے والا روایتی سیوریج سسٹم 100 سال پرانا ہے، جو پانی میں موجود جدید کیمیکلز، پرفیومز، کاسمیٹکس اور اینٹی بائیوٹکس کے ذرات (مائیکرو پولیٹنٹس) کو صاف نہیں کر پاتا۔ یہ کیمیکلز انسانی جسم میں جا کر ہارمونز کے نظام (انڈوکرائن سسٹم) کو تباہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے آج کل تھائیرائڈ، گردوں اور جگر کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یورپی یونین نے اب اس کے لیے 4 مراحل (فورتھ ڈگری) کی ٹریٹمنٹ لازمی قرار دی ہے، لیکن ہمارا سولر پلازما سسٹم یہ تمام کام صرف ایک ہی مرحلے میں کر دیتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ اسپتالوں کے خطرناک ترین ویسٹ واٹر پر کیے گئے لیب ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق یہ سسٹم پانی سے اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا (ریزسٹنٹ جینز) کو 100فیصد مکمل ختم (اسٹرلائز)کر دیتا ہے۔ یہ سسٹم، پانی سے آرگینک میٹر (نامیاتی کثافت) کو 95فیصد سے زائد صاف کرتا ہے اوراینٹی بائیوٹکس کی مقدار کو 99 فیصد تک ختم کر دیتا ہے۔


ڈاکٹر مبشر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی لیاری ندی کے پانی کی اسٹڈیز سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں پانی میں اینٹی بائیوٹکس کی مقدار ملی گرام فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جو انسانی صحت کے لیے بم کے برابر ہے۔ اگر حکومت ایسے جدید پلازما سسٹمز کے لیے ریگولیشنز بنائے تو لیاری ندی اور دیگر برساتی نالوں کے پانی کو پاک کیا جا سکتا ہے۔


چونکہ پلازما بنانے میں بجلی صرف ہوتی ہے، اس لیے ڈاکٹر مبشر نے اس سسٹم کو سولر پینلز اور ونڈ انرجی سے جوڑ کر انرجی نیوٹرل بنا دیا ہے، یعنی یہ بغیر بجلی کے بل کے مفت چلے گا۔ یہ سسٹم مکمل طور پر موڈیولر (آن آف) ہے، جسے ضرورت کے مطابق ایک گھر سے لے کر پوری فیکٹری کے سائز تک بڑھایا جا سکتا ہے۔


ایک عام گھر کے لیے اس سسٹم کی لاگت 3 سے 5 لاکھ روپے (1000 سے 1500 یورو) کے درمیان آئے گی، جس سے حاصل ہونے والا صاف پانی باغبانی، کپڑے دھونے اور گاڑی دھونے کے کام آ سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ ایک چھوٹا آر او پلانٹ جوڑ دیا جائے تو یہ پانی فوری طور پر پینے کے لیے بھی 100فیصد محفوظ بن جاتا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں