لاہور: پاکستان میں ذیابطیس خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے اور تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ایک کروڑ سے زائد پاکستانی ایسے ہیں جو ذیابطیس کے خطرے سے دوچار ہیں، ماہرینِ امراضِ ذیابطیس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں شوگر کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی طبی سہولیات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
یہ بات “آواز” اور “ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز” کے تحت منعقدہ ایک آگاہی اور مریضوں کی رہنمائی سے متعلق تقریب میں کہی گئی جس میں ماہر معالجین، فزیشنز، جنرل پریکٹیشنرز، ذیابطیس ایجوکیٹرز اور مریضوں نے شرکت کی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں شوگر کی شرح سب سے زیادہ ہے اور ہر تین میں سے تقریباً ایک بالغ فرد ذیابطیس کا شکار ہے۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں بالغ افراد میں شوگر کی شرح 31.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہر سال 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد شوگر سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
معروف اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر سید عباس رضا نے کہا کہ پاکستان میں شوگر وبائی صورت اختیار کر چکی ہے اور لاکھوں افراد تاخیر سے تشخیص، غیر صحت مند طرزِ زندگی اور بیماری پر قابو نہ پانے کے باعث گردوں کے فیل ہونے، بینائی ختم ہونے، دل کے دورے، فالج اور اعضا کٹنے جیسے خطرناک مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 27 فیصد شوگر کے مریض ایسے ہیں جنہیں علم ہی نہیں کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں اور اکثر افراد میں تشخیص کے وقت تک پیچیدگیاں شروع ہو چکی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر عباس رضا کے مطابق جنک فوڈ، موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، خراب نیند اور سست طرزِ زندگی پاکستان میں شوگر کے بڑھتے بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو شوگر کے ماہر ڈاکٹروں کی شدید کمی کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ 45 لاکھ سے زائد شوگر مریضوں کے لیے ملک میں اینڈوکرائنولوجسٹ اور ذیابطیس اسپیشلسٹس کی تعداد انتہائی محدود ہے اور زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود ہیں، اس لیے ہر مریض تک براہِ راست پہنچنا ممکن نہیں۔
تقریب میں شیئر کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اینڈوکرائنولوجی کے صرف 43 سے 53 مراکز جبکہ ذیابطیس اسپیشلسٹس کی تقریباً 123 پریکٹسز موجود ہیں، جس کے باعث چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے لاکھوں مریض ماہر علاج سے محروم ہیں۔
ڈاکٹر عباس رضا نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز، ورچوئل کنسلٹیشنز، شوگر مانیٹرنگ ڈیوائسز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ہی اب اس خلا کو پُر کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے شوگر کے مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اہم طبی نمبرز پر نظر رکھیں، جن میں ایچ بی ون سی اے سات فیصد سے کم، باڈی ماس انڈیکس 23 سے کم اور بلڈ پریشر 130/80 یا اس سے کم ہونا ضروری ہے تاکہ خطرناک پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ “آواز” منصوبے کے تحت جنرل پریکٹیشنرز کو ماہرین کی نگرانی میں تربیت دی جا رہی ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے شوگر کی اسکریننگ، کونسلنگ اور علاج کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور فارمیوو کے چیف ایگزیکٹو سید جمشید احمد نے کہا کہ پاکستان کو شوگر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کیلئے فوری اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت دوہرے چیلنج کا سامنا ہے، ایک جانب شوگر کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ماہر معالجین کی شدید کمی ہے، اسی خلا کو پُر کرنے کیلئے “آواز” جیسے منصوبے انتہائی اہم ہیں جو آگاہی، ورچوئل رابطوں اور منظم علاج کے ذریعے مریضوں کو ماہرین سے جوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی یا تو اپنی بیماری سے لاعلم ہیں یا شوگر کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی شوگر کی کیفیت جاننا زندگی بچانے کا پہلا قدم ہے۔ اگر مریض احتیاط اور مناسب علاج اختیار کریں تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
سید جمشید احمد نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی بھی شوگر کنٹرول کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ہماری خوراک اور طرزِ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فارمیوو نے مارچ 2021 میں “ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز” منصوبہ شروع کیا تھا تاکہ ایسے افراد کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں شوگر ہے مگر وہ لاعلم ہیں، انہیں ذیابطیس ایجوکیٹرز سے منسلک کیا جا سکے اور بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ٹول فری ہیلپ لائن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹس ایپ چیٹ بوٹ کے ذریعے افراد مفت رسک اسیسمنٹ، ذیابطیس ایجوکیٹرز سے رہنمائی اور ہائی رسک مریضوں کیلئے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشاورت حاصل کر سکتے ہیں۔
تقریب میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے اب تک ایک کروڑ 11 لاکھ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے، 10 لاکھ ہائی رسک افراد کو ٹریک کیا گیا، تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار افراد کو ڈاکٹروں اور ایجوکیٹرز سے منسلک کیا گیا جبکہ 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کو رہنمائی اور طبی معاونت فراہم کی گئی۔
حکام کے مطابق “آواز” پورٹل پر اب تک 4 ہزار 441 مریض رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ 3 ہزار 245 ذیابطیس ایجوکیشن سیشنز اور ایک ہزار 196 ورچوئل کنسلٹیشنز بھی کی جا چکی ہیں۔
تقریب کی میزبانی معروف اینکر پرسن وسیم بادامی نے کی جبکہ متعدد مریضوں نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے “ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز” اور “آواز” پروگرامز سے رابطہ کیا، رہنمائی حاصل کی اور اپنی شوگر کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔