کراچی: سندھ میں ایم پاکس کے بڑھتے کیسز کے درمیان کراچی میں ایک اور مریض میں ایم پوکس وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں بیماری اب الگ تھلگ کیسز تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا مقامی سطح پر پھیلاؤ شروع ہو چکا ہے، خصوصاً خیرپور اور کراچی کے بعض علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی سینٹرل کے علاقے بفر زون سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی ہے۔ مریض میں 2 اپریل کو تیز بخار، سر درد اور جسم پر دانوں کی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ 8 اپریل کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی لیبارٹری میں کیے گئے پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے وائرس کی تصدیق کی گئی۔
متاثرہ مریض کو فوری طور پر سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشس ڈیزیز کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے اور اس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مریض کو مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق کراچی میں یہ دوسرا کیس سامنے آنے سے واضح ہوتا ہے کہ وائرس ایک ہی علاقے تک محدود نہیں رہا، جبکہ خیرپور اور اس کے گرد و نواح میں بچوں اور نوزائیدہ افراد میں سامنے آنے والے کیسز نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انفیکشن کنٹرول کے ناقص اقدامات اور بروقت رپورٹنگ میں تاخیر نے وائرس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا ہے۔
صوبائی محکمہ صحت کی ہدایت پر ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر شنکر کر رہے ہیں۔ ٹیم مریض کے رابطوں کا سراغ لگا رہی ہے اور ممکنہ پھیلاؤ کا جائزہ لے رہی ہے۔ مریض کے قریبی اہل خانہ، جن میں والد، والدہ اور کزن شامل ہیں، کی نشاندہی کر کے انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے، تاہم تاحال ان میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
محکمہ صحت نے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں، مشتبہ مریضوں کو فوری طور پر علیحدہ کریں اور طبی عملے کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال فوری اور مربوط اقدامات کی متقاضی ہے اور اس کے لیے کووڈ جیسی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں کیسز کی فوری نشاندہی، آئسولیشن، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور شفاف رپورٹنگ شامل ہو۔
محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے احتیاط کریں۔ اگر کسی شخص میں تیز بخار، جسم درد یا جلد پر غیر معمولی دانے ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی سرکاری ہسپتال سے رجوع کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بیماری مزید علاقوں میں پھیل سکتی ہے-