کراچی کے علاقے گارڈن سے ریبیز کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جہاں 42 سالہ شخص انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک میں دورانِ علاج جاں بحق ہوگیا۔
ترجمان کے مطابق متاثرہ شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل مشتبہ پاگل کتے نے کاٹا تھا، تاہم بروقت اور مکمل علاج نہ ملنے کے باعث اس میں بعد ازاں ریبیز کی علامات ظاہر ہوئیں۔ مریض کو بخار، شدید بے چینی اور ہائیڈروفوبیا (پانی سے خوف) جیسی علامات کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں گزشتہ رات اس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) لگوانا نہایت ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر یہ مرض جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ انڈس ہسپتال کے ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر کے مطابق جنوری سے اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد کو کتے کے کاٹنے کے بعد علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق اب تک پانچ افراد کو ریبیز کی علامات کے ساتھ اسپتال لایا گیا، اور تمام مریض جانبر نہ ہو سکے، جس کے بعد رواں سال ریبیز سے اموات کی مجموعی تعداد 7ہوگئی ہے۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کتے کے کاٹنے کے کسی بھی واقعے کو ہرگز نظرانداز نہ کریں اور فوری طبی امداد حاصل کریں، کیونکہ ذرا سی غفلت جان لے سکتی ہے۔