اب کوئی مزید سیاسی شہادت نہیں

سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت آج بھی اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہیں کہ ماضی میں ریاست سیاست کو زندگی اور موت کے موڑ تک بھی پہنچا چکی ہے، اور اس کے اثرات آج تک قوم کا پیچھا کر رہے ہیں۔ایسے وقت میں جب پاکستان شدید سیاسی تقسیم، معاشی عدم استحکام ، سنگین سیکیورٹی خدشات اور عوامی بے چینی کا سامنا کررہا ہے پاکستان مزید کسی سیاسی شہادت کا بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

موجودہ حالات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی مسلسل قید تنہائی اور صحت سے متعلق بڑھتے خدشات اب محض قانونی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے اور ارباب اختیار کو اس معاملے پر بالغ نظری اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ہفتے رات گئے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے آنکھ کے خصوصی علاج کے لیے باہر لایا جانا محض ایک طبی خبر نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ انتباہ بھی تھا۔ ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO)، نامی بیماری کی تشخیض ہوئی اور یہ کوئی معمولی بیماری نہیں۔

طبی ماہرین CRVO کا سبب اکثر بے قابو ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی اور دل کی بنیادی بیماریوں کو قرار دیتے ہیں ، 74 برس کی عمر میں اس بیماری کی تشخیص عموماً شریانوں کی مجموعی طور پر بگڑتی ہوئی صحت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اکثر کہتے ہیں کہ آنکھ انسانی جسم کی رگوں کی کھڑکی ہوتی ہے۔ آنکھ کی ایک بڑی رگ بند ہو جائے تو اس بات پر سنجیدہ سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ دل اور دماغ میں کیا ہو رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان جسمانی طور پر متحرک اور ڈسپلن کے پابند سمجھے جاتےہیں، مگر عمر، بیماری کی کیفیت اور ان کی غذائی عادات سیاسی بیانیے کے تابع نہیں ہوا کرتیں۔ CRVO اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں شریانوں کی خطرناک بیماری پل رہی ہے۔ ایسی صورت میں دل کے شدید دورے یا فالج جیسے بڑے طبی حادثے کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ یہ قیاس آرائی نہیں بلکہ طب کی بنیادی حقیقت ہے۔

صورت حال اس لیے اور بھی تشویشناک ہے کہ یہ سب کچھ جیل میں قید تنہائی جھیلنے والے شخض کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اگر بانی پی ٹی آئی کو قید کے دوران سینے میں درد، دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی یا فالج کا سامنا ہوا تو ان کی جان بچنا اس بات پر منحصر ہو گا کہ انہیں کتنی تیزی سے کسی خصوصی اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ امراضِ قلب میں دل کے دورے کے بعد پہلے نوے منٹ کو قیمتی وقت یا گولڈن پیریڈ کہا جاتا ہے، جبکہ فالج میں تشخیص اور علاج کی مدت عموماً چار سے چھ گھنٹے ہوتی ہے۔ چند منٹ کی تاخیر بھی مستقل نقصان یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔

جیل کا ماحول فطری طور پر اس درجے کے ہنگامی طبی رسپانس کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ جیل سے اسپتال منتقلی کے لیے انتظامی اجازت اور سکیورٹی انتظامات سمیت کئی مراحل درکار ہوتے ہیں، اور ہر مرحلہ تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عمران خان کو گزشتہ ہفتے اس بیماری کے علاج کیلئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جہاں وسائل کی کمی، رش اور اعلیٰ سطح کی قلبی اور اعصابی سہولتوں کی محدود دستیابی ایک حقیقت ہے۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں اگر کسی کے پاس متبادل ہو تو وہ دل کے دورے یا فالج جیسے پیچیدہ معاملات کے لیے پمز کا رخ نہیں کرتا۔ وہاں اکثر وہی لوگ جاتے ہیں جن کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔

اگر عوامی حمایت رکھنے والی کسی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو قید کے دوران، جیل منتقلی یاکسی اور تاخیر کے باعث کوئی سنگین نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات انتہائی دور رس اور خطرناک ہوں گے۔ پاکستان میں عموما عوامی تاثر حقائق سے زیادہ تاریخ سے بنتا ہے۔ ایسے کسی بھی واقعے کو بڑے پیمانے پر قابلِ مذمت سمجھا جائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر عائد کی جائے گی۔

پاکستان سیاسی تنازعات کو زندگی اور موت کے موڑ تک پہنچانے کی پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بینظیر بھٹو کی شہادت ایسے زخم ہیں جو آج تک بھر نہیں سکے۔ کوئی بھی ادارہ اس المناک فہرست میں ایک اور باب شامل کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

روایت اور مثال بھی موجود ہے۔ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ آصف علی زرداری کو بارہا اسپتال اور طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ یہ فیصلے سیاسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ اس اصول کے تحت کیے گئے کہ ریاست ان افراد کی جان کی ذمہ دار ہے جو اس کی تحویل میں ہوں۔

عمران خان کے معاملے میں بھی معقول راستے موجود ہیں۔ انہیں بنی گالہ یا زمان پارک میں نظر بند کیا جا سکتا ہے۔ انہیں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک مکمل طبی ٹیم کی نگرانی میں ان کا علاج ممکن ہے۔ یا اگر ریاست واقعی خطرات اور کشیدگی کم کرنا چاہتی ہے تو انہیں برطانیہ یا کسی اور ملک میں علاج کی غرض سے جانے اجازت دے سکتی ہے۔

ان میں سے کوئی بھی راستہ احتساب، عدالتی عمل یا ریاستی اختیار کی نفی نہیں کرتابلکہ یہ محض ایک بنیادی اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ قید کو خاموشی سے جان لیوا طبی جواز نہیں بننے دینا چاہیے۔

ریاستوں کے طریقہ انصاف کا فیصلہ اس سے نہیں ہوتا کہ وہ کیسے سزا دیتی ہیں، بلکہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ وہ سزا یافتہ شخص کی زندگی کی حفاظت کیسے کرتی ہیں، حتیٰ کہ ان لوگوں کی بھی جو سیاسی طور پر ناگوار ہوں۔ عمران خان میں CRVO نامی بیماری کی تشخیص ایک وارننگ ہے۔ اسے نظرانداز کرنا طاقت نہیں، بلکہ غیر ذمہ داری ہو گی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

کیا آپ جانتے ہیں خون کے گروپس کیا ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر عبد الکریم شیخ واقعہ: پی ایم اے کا سخت نوٹس، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار، تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ مرض سے لاعلم