اسلام آباد: پاکستان میں کڑک دودھ پتی چائے کا زیادہ استعمال خواتین کی صحت کے لیے خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ ماہرین اور حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق دن میں بار بار چائے پینا، خاص طور پر کھانے کے ساتھ یا فوراً بعد، خواتین میں خون کی کمی کے مسئلے کو بڑھا سکتا ہے، جو پہلے ہی ملک میں صحت کے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
محققین اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین کی بڑی تعداد پہلے ہی آئرن کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجوہات میں ناقص اور کم خوراک، بار بار حمل، دودھ پلانے کا عرصہ، ماہواری کے دوران زیادہ خون کا اخراج اور غذائی سپلیمنٹس تک محدود رسائی شامل ہے۔ ایسے میں چائے کا بے احتیاط استعمال جسم کو خوراک سے ملنے والا آئرن جذب کرنے سے روک دیتا ہے۔
بلوچستان کے علاقے مکران میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان اور درمیانی عمر کی غیر حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ تحقیق میں شامل زیادہ تر خواتین روزانہ کئی کپ چائے پیتی تھیں، جبکہ چائے نہ پینے والی خواتین کے مقابلے میں ان میں خون کی کمی زیادہ پائی گئی۔ طبی ماہرین کے مطابق چائے زیادہ پینے والی خواتین میں ہیموگلوبن کی سطح بھی نمایاں طور پر کم تھی۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں خواتین کی بڑی تعداد اس کا شکار ہے۔ قومی سطح پر کیے گئے غذائی جائزوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تولیدی عمر کی بڑی تعداد میں خواتین خون کی کمی میں مبتلا ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔
کراچی میں ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بھی خواتین میں خون کی کمی کے خطرے سے جڑی عادات کی نشاندہی کی گئی، جن میں بار بار چائے پینا، کھانے کے اوقات کا غیر منظم ہونا اور ناقص غذائی انتخاب شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر خواتین کی صحت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ چائے بذات خود کوئی زہر نہیں اور نہ ہی یہ اکیلے خون کی کمی پیدا کرتی ہے۔ اصل مسئلہ مقدار اور وقت کا ہے۔ کالی چائے میں موجود بعض قدرتی اجزا دالوں، سبزیوں اور دیگر غذاؤں میں موجود آئرن کے ساتھ مل کر اس کے جذب کو کم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کو مطلوبہ آئرن نہیں مل پاتا۔
طبی ماہرین کے مطابق خواتین میں خون کی کمی کی علامات میں مسلسل تھکن، کمزوری، سانس پھولنا، سر چکرانا، چہرے کی زردی، بالوں کا زیادہ جھڑنا اور توجہ کی کمی شامل ہیں، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جن خواتین میں خون کی کمی ہو، جو حاملہ ہوں، بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں یا جنہیں ماہواری کے دوران زیادہ خون آتا ہو، انہیں کھانے کے ساتھ چائے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ چائے کھانے سے کچھ دیر پہلے یا بعد میں پی جائے اور آئرن کی گولیوں کے ساتھ ہرگز نہ لی جائے۔
ڈاکٹروں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ آئرن والی غذاؤں کے ساتھ وٹامن سی سے بھرپور چیزیں جیسے لیموں، مالٹا، امرود اور ٹماٹر شامل کیے جائیں، کیونکہ اس سے آئرن کے جذب میں مدد ملتی ہے۔ اگر علامات برقرار رہیں تو خود علاج کے بجائے خون کا معائنہ کروانا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں خون کی کمی کا مسئلہ صرف چائے کم کرنے سے مکمل طور پر حل نہیں ہو گا، تاہم چائے پینے کی عادت میں معمولی تبدیلی ایک آسان اور کم خرچ قدم ہے، جو بہتر خوراک، غذائی سپلیمنٹس اور ماں اور بچے کی صحت سے متعلق دیگر اقدامات کے ساتھ مل کر نمایاں فرق ڈال سکتا ہے۔