چند روز قبل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے بغیر کسی واضح وجہ کے بھرتیوں کا تقریباً مکمل عمل اچانک منسوخ کر دیا۔
یہ بھرتیاں ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ڈرگ انسپکٹرز کے لیے تھیں، جو پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کے ضابطہ اور نگرانی کے لیے نہایت اہم اور حساس عہدے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ معمولی نوعیت کا ہے اور نہ ہی قابلِ قبول اور اس پر فوری وضاحت اور اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات ناگزیر ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں بھرتی کا یہ عمل 2023 میں شروع ہوا تھا اور نمایاں حد تک آگے بڑھ چکا تھا۔ امیدوار تحریری امتحانات دے چکے تھے، دستاویزات کی جانچ مکمل ہو چکی تھی اور شارٹ لسٹنگ ہو چکی تھی۔ صرف انٹرویوز باقی تھے۔ انٹرویوز بھی طے تھے، مگر جولائی میں آخری لمحے پر مؤخر کر دیے گئے اور بالآخر 16 جنوری کو پورا عمل بغیر کسی وجہ کے ختم کر دیا گیا۔
ڈریپ میں بھرتیوں کا یہ کوئی غیر رسمی یا عارضی عمل نہیں تھا۔ یہ بھرتیاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے کی گئیں اور انہیں باضابطہ طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی قرار دیا گیا۔ پالیسی بورڈ کی منظوری بھی موجود تھی۔ ہزاروں اہل اور قابل امیدواروں نے نظام پر اعتماد کیا، وقت اور پیسہ صرف کیا اور صبر سے انتظار کیا، مگر پھر بغیر کسی عوامی وضاحت کے ان سب کے لیے دروازہ اچانک بند کر دیا گیا۔
جناب وزیراعظم،
اگر یہ عمل شفاف تھا تو آخری مرحلے پر اسے کیوں منسوخ کیا گیا؟
اگر اس میں کوئی خامی تھی تو امیدواروں کو امتحانات، دستاویزات اور مہینوں کی بے یقینی سے کیوں گزارا گیا؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ میرٹ پر مبنی بھرتیوں کو روکنے کا دباؤ کس نے ڈالا؟
نقصان صرف مایوس امیدواروں تک محدود نہیں۔ بہت سے درخواست گزار عمر کی بالائی حد کے قریب تھے۔ ان کے لیے یہ محض ایک اور نوکری نہیں تھی بلکہ آخری حقیقت پسندانہ موقع تھا۔ آج وہ خود کو نظرانداز، مایوس اور ریاست کی جانب سے ٹھکرایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں تقریباً نوّے سے سو کلیدی اسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کے ادویات اور طبی آلات کے ضابطہ جاتی نظام کو شدید طور پر کمزور کر دیا ہے۔ اہل اور تربیت یافتہ ماہرین کے بغیر کوئی بھی ریگولیٹر عوامی صحت کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکتا۔
یہ ناکامی ایک اہم قومی ہدف کو بھی براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان کا ضابطہ جاتی نظام عالمی ادارۂ صحت کے میچورٹی لیول تھری کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، جو حاصل ہو جانے کی صورت میں عالمی سطح پر پاکستان کی ریگولیٹری ساکھ میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس سے تقریباً پچاس ممالک میں ادویات کی برآمدات کے دروازے کھل سکتے ہیں اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔ یہ ہدف حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں بھی شامل ہے۔
لیکن جب اہم تکنیکی عہدے خالی پڑے ہوں اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا عمل درمیان میں ہی ترک کر دیا جائے تو عالمی ادارۂ صحت کا میچورٹی لیول تھری اب ایک دور کی بات دکھائی دیتا ہے۔
جناب وزیراعظم،
اگر اہل اور تربیت یافتہ افراد کو میرٹ پر تعینات نہ کیا گیا تو غیر معیاری اور غیر محفوظ ادویات رجسٹر ہو سکتی ہیں اور ناقص طبی آلات کی منظوری دی جا سکتی ہے۔ یہ محض اندیشہ نہیں۔ ایسے فیصلے براہِ راست اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اسپتالوں اور فارمیسیوں میں کیا پہنچتا ہے، مریض محفوظ رہتے ہیں یا خطرے میں پڑتے ہیں، زندگیاں بچتی ہیں یا ضائع ہوتی ہیں۔
میرٹ کے بغیر پاکستان معاشی ترقی نہیں کر سکتا۔ ایک مضبوط اور خودمختار ریگولیٹر کے بغیر عوام کو نقصان پہنچے گا اور جانیں ضائع ہوں گی۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ایک خودمختار، پیشہ ور ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے دفتر کے طور پر جو سیکشن افسران یا غیر متعلقہ افراد کے زیرِ اثر ہو۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بھرتی کی منسوخی کی واضح وجوہات سامنے لائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اس عمل کو شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر بحال کیا جائے۔ صحت کے اداروں، خصوصاً ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، پر چھایا ہوا یہ سایہ ختم کیا جائے۔ اس کی خودمختار کارکردگی یقینی بنائی جائے اور ادارے کو نقصان پہنچانے والوں کا آزادانہ احتساب کیا جائے۔
جناب وزیراعظم،
یہ صرف روزگار کا معاملہ نہیں۔ یہ عوامی صحت، ریاست کی ساکھ، معاشی مواقع اور لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی کا سوال ہے۔ یہاں میرٹ کو نظرانداز کرنے کے نتائج ہوں گے، اور ان نتائج پر جواب بھی دینا پڑے گا۔