بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کو کم کھانے پر مجبور کر دیا، غذائی بحران شدید ہونے کا خدشہ: گیلپ پاکستان

اسلام آباد: ملک میں بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں نے عوام کی روزمرہ خوراک کو براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث کم آمدن والے خاندانوں میں غذائی قلت کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

گیلپ پاکستان کے ایک تازہ تجزیے کے مطابق پاکستانی گھرانے اپنی آمدن کا بڑا حصہ یوٹیلیٹی بلوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک کی مقدار اور معیار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

گیلپ پاکستان کی رپورٹ میں گزشتہ بیس برس کے گھریلو اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار پانچ میں گھریلو بجٹ کا تینتالیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ ہوتا تھا، تاہم یہ شرح مسلسل کم ہو کر دو ہزار پچیس میں سینتیس فیصد رہ گئی۔ اس کے برعکس رہائش، بجلی اور گیس پر اٹھنے والے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو پندرہ فیصد سے بڑھ کر پچیس فیصد تک پہنچ گئے، اور اب یہی اخراجات عام خاندان کے لیے سب سے بڑا مالی دباؤ بن چکے ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق خوراک پر کم خرچ کسی بہتری کی علامت نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ آمدن میں حقیقی اضافہ نہ ہونے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث خاندان یا تو کم کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں یا ایسی خوراک اختیار کر رہے ہیں جو پیٹ تو بھر دے مگر غذائیت سے محروم ہو۔ بجلی اور گیس کے بل چونکہ ہر حال میں ادا کرنا پڑتے ہیں، اس لیے خوراک وہ واحد شعبہ بن چکا ہے جہاں کٹوتی کی جا رہی ہے۔

گیلپ پاکستان کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خوراک میں یہ کمی خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے، کیونکہ یہی طبقے غذائی قلت اور پوشیدہ بھوک کا سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔ غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خوراک میں کمی کا مطلب صرف کم کھانا نہیں بلکہ پروٹین، دودھ، گوشت، دالوں اور سبزیوں جیسی غذائیت سے بھرپور اشیا کا گھریلو دسترخوان سے غائب ہونا بھی ہے۔

گیلپ پاکستان کے مطابق رہائش اور یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافے کی بڑی وجوہات بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، کرایوں میں بڑھوتری اور دیگر ایسے اخراجات ہیں جن سے بچنا عام آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ ان حالات میں تعلیم اور صحت جیسے شعبوں پر خرچ گزشتہ بیس برس کے دوران تقریباً جوں کا توں رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی نے انسانی ترقی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو غذائی قلت ایک خاموش بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بچوں کی نشوونما، جسمانی صحت اور ذہنی صلاحیتوں پر نمایاں ہوں گے۔ غذائی عدم تحفظ میں اضافہ نہ صرف صحت عامہ کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ملکی پیداوار اور معاشی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں عوام خوراک اس لیے کم نہیں کر رہے کہ زندگی آسان ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ بجلی، گیس اور رہائش کے بڑھتے اخراجات نے غذائیت کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، اور لاکھوں خاندان غذائی قلت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے