کراچی:پاکستان میں وٹامن ڈی کی وسیع پیمانے پر کمی سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی تشخیص اور علاج کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، جبکہ معالجین کو غیر ضروری ٹیسٹوں اور وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار میں بلا ضرورت ادویات تجویز کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار اسکاٹ مین فارماسیوٹیکلز کے زیر اہتمام منعقدہ کنیکٹ سمٹ میں طبی ماہرین نے کیا۔
"بیماری کے پھیلاؤ کا جائزہ اور مؤثر علاج کی حکمت عملی” کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں ڈاکٹر سیلال احمد، ایسوسی ایٹ پروفیسر KIMS اور کنسلٹنٹ طبہ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ، نے قومی سطح پر ہونے والی تحقیق اور ادویات تجویز کرنے سے متعلق طبی رہنما اصولوں کا جائزہ پیش کیا۔
18 تحقیقی اشاعتوں کے جائزے کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی مقدار کی شرح 84.82 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 60,937 لیبارٹری ریکارڈز کے تجزیے میں یہ شرح 61.1 فیصد سامنے آئی۔ ماہرین نے واضح کیا کہ مختلف مطالعات میں شامل افراد اور تشخیصی معیار کے فرق کے باعث ان اعداد و شمار کو ملک بھر کی حقیقی شرح قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وٹامن ڈی کی کمی کی ممکنہ وجوہات میں دھوپ سے محدود واسطہ، گھروں اور دفاتر میں زیادہ وقت گزارنے کا رجحان، جسم کو ڈھانپنے والے لباس کا استعمال، فضائی آلودگی اور غذائی کمی شامل ہیں۔
ڈاکٹر احمد نے تجویز دی کہ وٹامن ڈی کے ٹیسٹ صرف ان مریضوں کے لیے کیے جائیں جن میں طبی طور پر اس کی ضرورت موجود ہو، مثلاً ہڈیوں کی بیماری یا غذائی اجزا جذب کرنے کی صلاحیت میں خرابی کے شکار افراد۔ انہوں نے صحت مند بالغ افراد کے معمول کے ٹیسٹوں سے گریز، مریض کی انفرادی ضرورت کے مطابق سپلیمنٹس کے استعمال اور مناسب طبی نگرانی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ جائزے کے بغیر بار بار وٹامن ڈی کی انتہائی زیادہ خوراک دینا مناسب نہیں۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پرویز علی نے کہا کہ تحقیقی شواہد کے مطابق پاکستان کے تقریباً 73 فیصد بالغ افراد میں وٹامن ڈی کی ناکافی مقدار پائی جاتی ہے، حالانکہ ملک میں دھوپ وافر مقدار میں دستیاب ہے۔
"بچپن سے بڑھاپے تک — وٹامن ڈی اور ہڈیوں کی صحت کا زندگی بھر کا ساتھ” کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں انہوں نے ابتدائی عمر سے ہڈیوں کی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ہڈیوں کی زیادہ سے زیادہ مضبوطی اور مجموعی حجم کا تقریباً 90 فیصد حصہ لڑکپن اور نوجوانی کے اختتام تک حاصل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر فرزانہ عامر نے خواتین کی تولیدی زندگی اور سنِ یاس کے بعد وٹامن ڈی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اس کی کمی کے ممکنہ تعلق کو ماہواری کی بے قاعدگی، پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)، انسولین کے خلاف مزاحمت، بانجھ پن اور حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، بشمول حمل کے دوران ذیابیطس اور پری ایکلیمپسیا، سے جوڑا۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سنِ یاس کے بعد وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی کمزوری، پٹھوں کی طاقت میں کمی اور ہڈیوں کے فریکچر کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
سمٹ سے دیگر مقررین میں ڈاکٹر فخرہ سنجرانی، ڈاکٹر یوسف کمال، ڈاکٹر جگدیش کمار، پروفیسر ڈاکٹر احمد اقبال مرزا اور ڈاکٹر اویناش پنشی شامل تھے۔
سمٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی سے نمٹنے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے میں مریض کی طبی کیفیت کے مطابق تشخیص، محفوظ علاج اور مناسب طبی رہنمائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔