کراچی: غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ، شدید گرمی، ناقص نکاسی آب اور ماحولیاتی آلودگی کراچی کے شہریوں کی صحت کے لیے بڑے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری منصوبہ بندی میں بنیادی اصلاحات، سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے محفوظ شہر ہی حقیقی معنوں میں صحت مند شہر بن سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے زیر اہتمام آٹھویں دو سالہ عالمی کانفرنس آئیکون 2026 کے دوسرے روز ’’موسمیاتی تبدیلی، شہری مسائل اور صحت کے انتظام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پینل مباحثے میں کیا گیا۔ ماحولیاتی ماہرین، طبی ماہرین، حکومتی حکام اور میڈیا نمائندوں نے کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ تھنک ٹینک قائم کرنے، اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور شہری منصوبہ بندی کی ازسرنو تشکیل پر زور دیا۔
پینل مباحثے کی نظامت انڈس ہسپتال کے ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سہیل اختر نے کی، جبکہ شرکا میں محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ کے سیکریٹری فیصل احمد عقیلی، انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر ظفر زیدی، آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاطمی، سینئر ماحولیاتی و میڈیا کنسلٹنٹ عافیہ سلام اور امریکہ کی یونیورسٹی آف کولوراڈو سے وابستہ کلائمیٹ میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر پال چارلٹن شامل تھے۔
مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری ماحولیات سندھ فیصل احمد عقیلی نے کہا کہ کراچی میں غیر منصوبہ بند ہاؤسنگ اسکیموں اور بنیادی شہری سہولیات کے بغیر آبادی کے پھیلاؤ نے شہری انتظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق شہر کے معاملات 26 مختلف انتظامی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہیں، جن کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان شہری مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی صحت کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے سے جڑے بنیادی مسائل کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے حکومت، جامعات اور سول سوسائٹی پر مشتمل مشترکہ تھنک ٹینک قائم کیا جانا چاہیے، جو دستیاب اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے شواہد کی بنیاد پر قابل عمل تجاویز مرتب کرے۔
شہری منصوبہ بندی کی خامیوں کے صحت پر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر ظفر زیدی نے کہا کہ ناقص شہری ڈیزائن اور بنیادی سہولیات کی کمی شہریوں کو مختلف بیماریوں اور صحت کے خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مچھروں سے پھیلنے والے ملیریا جیسے امراض، دل کی بیماریوں کی پیچیدگیاں اور سیوریج کے ناقص انتظام جیسے مسائل شہری ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات کے لیے ذمہ داریوں کا واضح تعین، مؤثر نگرانی اور جواب دہی ضروری ہے۔ کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے تحقیق کی بنیاد پر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں کی صحت اور معیار زندگی پر کیا مرتب ہوں گے۔
آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاطمی نے پالیسی سازی اور تحقیق کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور حکومت کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کی صحت پالیسی میں طویل عرصے بعد حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے، تاہم ماحولیاتی تبدیلی اور صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان پالیسی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
امریکہ سے شریک ہونے والے ماہر ڈاکٹر پال چارلٹن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت پر اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر شواہد پر مبنی طریقہ کار اور رہنما فریم ورک موجود ہیں، جن سے پاکستان جیسے گنجان آباد اور موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے لینسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن جیسے عالمی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی ماہرین کو صحت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، علاج معالجے کے اخراجات اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں تحقیق اور اعداد و شمار کے ذریعے پالیسی سازوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین کو میڈیا اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مؤثر رابطے کے لیے بھی تربیت دی جانی چاہیے، جبکہ پاکستان کو عالمی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی اور صحت سے متعلق اپنے اعداد و شمار اور تحقیق کو مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
سینئر ماحولیاتی و میڈیا کنسلٹنٹ عافیہ سلام نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب پر یکساں نہیں پڑتے، اس لیے پالیسی سازی میں ان طبقات کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے جو شدید گرمی اور ماحولیاتی خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسکول جانے والے بچوں اور فیلڈ میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے اوقات میں ان کی صحت، روزمرہ سرگرمیوں اور کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان تعاون کی بعض حالیہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کو مستقل ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مربوط حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔