سندھ میں ایم پاکس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ، رواں سال 93 کیسز اور 11 اموات رپورٹ

سندھ میں ایم پاکس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کے خدشات بڑھنے لگے، رواں سال صوبے میں وائرس کے 93 مصدقہ کیسز اور 11 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ متاثرہ افراد میں کراچی سرفہرست ہے، خیرپور اور سکھر بھی زیادہ کیسز والے اضلاع میں شامل ہیں۔ صوبائی بیماریوں کی نگرانی اور ردِعمل یونٹ کی لیبارٹری سرویلنس رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں مردوں کے ساتھ بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

سندھ میں ایم پاکس کے 93 مصدقہ کیسز اور 11 اموات سامنے آگئیں، محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں سال صوبے میں ایم پاکس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 93 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں 70 مرد اور 23 خواتین شامل ہیں۔ مردوں کا تناسب 75.27 فیصد جبکہ خواتین کا تناسب 24.73 فیصد ہے۔

عمر کے لحاظ سے 30 سے 39 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اس ایک گروپ کے 26 کیسز رپورٹ ہوئے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پیدائش سے 9 سال عمر کے 23 بچوں میں بھی ایم پاکس کی تصدیق ہوئی، 20 سے 29 سال عمر کے افراد میں 18 کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ 40 سے 49 سال کے افراد میں 11، 50 سے 59 سال میں 8، 10 سے 19 سال میں 6 اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں ایک کیس رپورٹ ہوا۔

ضلعی اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ 26 کیسز سامنے آئے، خیرپور 22 کیسز کے ساتھ دوسرے اور سکھر 9 کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ کراچی ایسٹ میں 8، کراچی ملیر میں 7 اور حیدرآباد میں 5 کیسز رپورٹ ہوئے۔ دیگر اضلاع میں بھی کیسز سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی موجودگی صرف ایک شہر تک محدود نہیں۔

ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ایم پاکس کے سب سے زیادہ 31 کیسز رپورٹ ہوئے، مئی میں 2 اور جون میں 4 کیسز سامنے آئے۔ جولائی میں 7، اگست میں 17 اور ستمبر میں 20 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ اکتوبر میں اب تک 6 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حالیہ مہینوں میں کیسز میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان سے وائرس کے پھیلاؤ کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

لیبارٹری سرویلنس کے مطابق آغا خان یونیورسٹی کے ذریعے 20 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 26 کیسز کے اندراج میں گھر پر کیے گئے دوروں (ہوم وزٹ) کا حوالہ موجود ہے۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر 93 تصدیق شدہ کیسز درج ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایم پاکس ایک متعدی بیماری ہے جو عموماً متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلد پر موجود زخموں، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیا کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے شامل ہوسکتے ہیں۔

محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کریں۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، متاثرہ افراد سے احتیاطی فاصلہ اور طبی ہدایات پر عمل درآمد اہم ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں