اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیر کو پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا اضافی چارج دے کر ڈاکٹر محمد سلمان کی جگہ تعینات کر دیا، جنہیں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اسپتال کی سربراہی سونپی گئی تھی۔
پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق اسلام آباد کی شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں اور یونیورسٹی کی ذمہ داریوں کے ساتھ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے فرائض بھی انجام دیں گے۔ ڈاکٹر محمد سلمان کی خدمات ان کے اصل ادارے، قومی ادارہ صحت، کو واپس کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر وہاں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت قومی صحت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ انتظام وزیراعظم آفس کی ان ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے جو دو اکتوبر کو وزارت کو بھیجی گئی تھیں۔ پانچ اکتوبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن پر سیکشن آفیسر ہاسپٹل ون، لاریب فاطمہ، کے دستخط ہیں۔
ڈاکٹر تنویر خالق کو گریڈ 21 کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے کا اضافی چارج تین ماہ یا باقاعدہ سربراہ کی دستیابی تک دیا گیا ہے، ان میں سے جو مدت پہلے مکمل ہو۔ وہ قواعد کے تحت اضافی معاوضے کے بھی حق دار ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں ڈاکٹر محمد سلمان کو قومی ادارہ صحت میں انہی عہدوں پر دوبارہ فرائض انجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے جن پر وہ پہلے کام کر رہے تھے۔ تاہم پمز میں ان کی جگہ نیا سربراہ مقرر کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
قومی ادارہ صحت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کی نرسری میں آتش زدگی کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ کے بعد 29 اگست کو اسپتال کی سربراہی سونپی گئی تھی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر پمز کے اُس وقت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افسران کی معطلی اور ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں 26 اگست کو آگ لگنے سے 14 بچوں کی موت ہوئی تھی۔ ایک بچے کو نرس نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر بچایا تھا۔
عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور نومولود بچوں کے محفوظ انخلا کے انتظامات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کمیٹی کے مطابق نرسری میں آتش زدگی کی صورت میں عملے کو آگاہ کیے گئے، منظور شدہ اور مشق کے ذریعے آزمائے گئے طریقہ کار کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی تھی، جبکہ اس مرحلے پر آگ بھڑکنے کی حتمی وجہ بھی طے نہیں ہو سکی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جولائی میں اسپتال کے نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد آگ کا بروقت پتہ لگانے، الارم، انخلا کی تیاری اور برقی نظام کے معائنے میں خامیاں پہلے ہی سامنے آ چکی تھیں۔ تاہم ان انتباہات کے باوجود اسپتال کی تیاری بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔
سانحے کے بعد اسپتال کے انتظامات اور ذمہ داروں کے تعین کا معاملہ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے 14 ستمبر کو حکام کو سانحے کی ایف آئی آر 24 گھنٹے کے اندر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے 24 ستمبر کو پمز کے دورے کے دوران متاثرہ نرسری کی مسلسل بندش پر ڈاکٹر محمد سلمان سے بازپرس کرتے ہوئے اسے دوبارہ کھولنے کا واضح وقت دینے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے اسپتال کے منصوبوں میں تاخیر پر بھی ناراضی ظاہر کی اور مریضوں کی دیکھ بھال اور عملے کے رویے میں بہتری لانے پر زور دیا تھا۔