آئی سی یو منتقلی میں مبینہ تاخیر، جناح اسپتال میں حاملہ خاتون اور نومولود جاں بحق

کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں جگر کے شدید عارضے میں مبتلا نو ماہ کی حاملہ خاتون کو گائنی وارڈ سے گیسٹروانٹرولوجی وارڈ منتقل کیے جانے کے بعد حالت بگڑنے پر مبینہ طور پر بروقت گائنی کی مدد اور میڈیکل آئی سی یو میں جگہ نہ مل سکی، خاتون نے گیسٹرو وارڈ میں ہی بچے کو جنم دیا اور بعدازاں ماں اور نومولود دونوں جاں بحق ہوگئے۔

واقعے کے بعد شعبہ گیسٹروانٹرولوجی نے اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو تحریری شکایت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مریضہ کی انتہائی تشویشناک حالت کے باوجود گائنی اور میڈیکل آئی سی یو سے مطلوبہ اور بروقت تعاون نہیں ملا۔ اسپتال انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔

جے پی ایم سی حکام کے مطابق خاتون Fulminant Hepatic Failure یعنی جگر کے اچانک اور شدید طور پر ناکارہ ہونے کا شکار تھیں اور انہیں 18 اگست کو گائنی وارڈ 9 اے سے جگر کے مرض کے علاج کے لیے گیسٹروانٹرولوجی وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔

حکام نے شعبہ گیسٹروانٹرولوجی کی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مریضہ کا حمل نو ماہ کا تھا اور ان کی حالت تیزی سے بگڑ رہی تھی، اس لیے انہیں جگر کے علاج کے ساتھ ساتھ گائنی، زچگی اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین کی فوری اور مشترکہ نگرانی درکار تھی۔

شکایت کے مطابق گیسٹروانٹرولوجی ٹیم نے مریضہ کے جگر کے عارضے کا علاج شروع کیا اور گائنی وارڈ 9 اے سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے مریضہ کے فوری معائنے، دوبارہ جائزے اور طبی مدد کی درخواست کی۔

تاہم الزام عائد کیا گیا ہے کہ مریضہ کی نازک حالت کے باوجود گائنی کی جانب سے مطلوبہ طبی معاونت بروقت فراہم نہیں کی گئی۔

اسی دوران خاتون کی حالت مزید خراب ہوگئی اور انہیں گیسٹروانٹرولوجی وارڈ میں ہی دردِ زہ شروع ہوگیا، جہاں انہوں نے بچے کو جنم دیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ گیسٹرو وارڈ نہ تو زچگی کے لیے مخصوص ہے اور نہ ہی وہاں انتہائی خطرے والی حاملہ خواتین کی ڈیلیوری کے لیے درکار سہولیات موجود ہیں۔

جے پی ایم سی حکام کے مطابق مریضہ کی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر میڈیکل آئی سی یو سے بھی متعدد مرتبہ رابطہ کرکے ان کے معائنے اور آئی سی یو منتقلی کی درخواست کی گئی۔

شعبہ گیسٹروانٹرولوجی نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ آئی سی یو میں بستروں کی دستیابی کی اطلاعات کے باوجود مریضہ کو وہاں منتقل نہیں کیا گیا۔ بروقت انتہائی نگہداشت نہ ملنے کے دوران مریضہ کی حالت مزید بگڑتی گئی اور بالآخر وہ انتقال کر گئیں، جبکہ ان کا نومولود بھی جانبر نہ ہوسکا۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ رات تقریباً دو بجے، جب مریضہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی، گائنی وارڈ 9 اے کے سینئر ڈاکٹروں سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی، تاہم الزام ہے کہ مطلوبہ مدد فراہم نہیں کی گئی۔ ایمرجنسی کے دوران گائنی ٹیم کے بعض ارکان کے رویے اور رابطے کے حوالے سے بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔

تاہم جے پی ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام الزامات فی الحال شعبہ گیسٹروانٹرولوجی کی شکایت کا حصہ ہیں اور ان کے درست یا غلط ہونے کا تعین انکوائری کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔

جے پی ایم سی کے ایک عہدیدار کے مطابق شعبہ گیسٹروانٹرولوجی نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائنی اور میڈیکل آئی سی یو سے کب اور کتنی مرتبہ مدد مانگی گئی، اس وقت آئی سی یو میں بستر دستیاب تھے یا نہیں، مریضہ کا گائنی معائنہ بروقت ہوا یا نہیں اور کن حالات میں اسے گیسٹروانٹرولوجی وارڈ میں بچے کو جنم دینا پڑا، ان تمام معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔

انکوائری میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ انتہائی تشویشناک حالت میں موجود حاملہ مریضہ کے علاج، ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں منتقلی، ہنگامی طبی امداد اور مختلف طبی ٹیموں کے درمیان رابطے کے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔

اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان کے مطابق واقعے کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی ڈاکٹر یا عملے کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں