کراچی: سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ پر سندھ حکومت کی خصوصی مہربانی، ریٹائرمنٹ سے صرف ایک روز قبل مزید تین سال کے لیے دوبارہ پروفیسر مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
سندھ کابینہ نے ڈاکٹر نگہت شاہ کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں مزید تین سال کے لیے پروفیسر مقرر کرنے کی منظوری دے دی، جبکہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کردی ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ 12 اگست 2026 کو 60 سال کی عمر مکمل ہونے پر سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے والی تھیں، تاہم ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل ان کی تین سال کے لیے دوبارہ تقرری کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی۔
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے 10 اگست کو جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جاری خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ کابینہ نے 5 اگست 2026 کے اجلاس میں ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کا معاملہ زیر غور لایا اور وسیع تر عوامی مفاد میں انہیں تین سال کے لیے دوبارہ پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔
اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کا مقصد خصوصی طبی خدمات کا تسلسل، تعلیمی قیادت، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے وائس چانسلر کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سالہ تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کی جائے اور کابینہ کے فیصلے پر بلا تاخیر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
دوسری جانب جناح اسپتال کی ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی دوبارہ تقرری سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی ترقی کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے پاس طویل تدریسی اور پیشہ ورانہ تجربہ موجود ہے، تاہم ڈاکٹر نگہت شاہ کو مزید تین سال تک پروفیسر کے عہدے پر برقرار رکھنے سے ان کی اگلے گریڈ میں ترقی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ سال 2022 میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے تعینات ہوئی تھیں، اب ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل ہونے کے بعد بھی انہیں مزید تین سال تک پروفیسر کے عہدے پر برقرار رکھنے کے فیصلے نے یونیورسٹی میں سینیارٹی، ترقی اور میرٹ کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔
ڈاکٹر نگہت شاہ کی دوبارہ تقرری کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے اپنے نوٹیفکیشن میں سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ریٹائرڈ فیکلٹی ممبران کو 65 سال کی عمر تک خالصتاً کنٹریکٹ کی بنیاد پر رکھنے کی اجازت دی تھی، تاہم اس کے لیے ادارے کی ضرورت اور متعلقہ قوانین و پالیسیوں پر عملدرآمد ضروری قرار دیا گیا تھا۔
پی ایم ڈی سی نے واضح کیا تھا کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ پر تقرری سے مستقل ملازمت، سینیارٹی یا مستقل طور پر سروس میں شامل ہونے کا حق پیدا نہیں ہوگا۔
پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا تھا کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی دوبارہ تقرری سے جونیئر فیکلٹی کے ترقی کے امکانات، کیریئر میں پیش رفت یا کیڈر اسٹرکچر متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
اسی نکتے پر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اگر ڈاکٹر نگہت شاہ کو مزید تین سال کے لیے پروفیسر مقرر کیا جاتا ہے تو ان پانچ ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی ترقی کے امکانات کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا؟
محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی بطور پروفیسر تین سالہ تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کی جائے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کابینہ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق بلا تاخیر عملدرآمد کیا جائے اور کارروائی کی رپورٹ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو ترجیحی بنیادوں پر ارسال کی جائے۔