کراچی: کراچی کے سوبھراج اسپتال میں طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف نہ کرنے کا مبینہ معاملہ سامنے آگیا، جہاں اسپتال کے احاطے میں انسانی پلیسنٹا (نال)، خون آلود استعمال شدہ سرنجز اور دیگر طبی فضلہ کھلے عام پڑا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
سامنے آنے والی تصاویر اور اطلاعات کے مطابق اسپتال کے احاطے میں بڑی تعداد میں استعمال شدہ سرنجز، خون سے آلودہ طبی سامان اور انسانی پلیسنٹا کھلے عام موجود تھے، جس پر طبی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا طبی فضلہ اگر مناسب طریقے سے تلف نہ کیا جائے تو یہ انفیکشن کے پھیلاؤ اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی پلیسنٹا کو طبی ضوابط کے مطابق لیک پروف بایو ہیزرڈ (Biohazard) بیگ یا مخصوص کنٹینر میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے دیگر میڈیکل ویسٹ سے الگ رکھتے ہوئے مقررہ طریقہ کار کے تحت تلف کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی اعضا، خون آلود سرنجز اور دیگر خطرناک طبی فضلہ کو اسپتال کے عقب، کھلے میدان یا عام کچرے میں پھینکنا نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے مریضوں، اسپتال کے عملے، صفائی کرنے والے کارکنوں اور عام شہریوں میں مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب ترجمان کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کا کہنا ہے کہ حال ہی میں میڈیکل ویسٹ کو تلف کرنے والا انسینیریٹر پلانٹ دوبارہ فعال کیا گیا ہے تاکہ اسپتالوں کے خطرناک طبی فضلے کو محفوظ انداز میں تلف کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق سوبھراج اسپتال میں سامنے آنے والے معاملے پر اسپتال انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے، جس کے بعد حقائق کی روشنی میں مکمل تفصیلات اور مؤقف جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کراچی کے ولیکا اسپتال میں بھی طبی فضلے اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق معاملات سامنے آنے کے بعد صحت کے اداروں میں ویسٹ مینجمنٹ اور انفیکشن کنٹرول کے نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب سوبھراج اسپتال میں سامنے آنے والے اس مبینہ واقعے نے بھی طبی فضلہ محفوظ انداز میں تلف کرنے کے نظام کی مؤثریت پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔