کراچی: سندھ میں سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اوسطاً ہر روز چار بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جبکہ جنوری سے جون تک مجموعی طور پر 729 بچے وائرس سے متاثر پائے گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ اوسطاً 122 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جس پر ماہرین صحت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کی وبا قرار دیا ہے۔
سرکاری ایچ آئی وی رجسٹریشن ڈیٹا کے مطابق پنجاب کے اعداد و شمار کے بغیر پاکستان بھر میں جنوری سے جون 2026 کے دوران 805 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جن میں سے 729 یعنی 90.6 فیصد کا تعلق صرف سندھ سے تھا۔ متاثرہ بچوں میں 447 لڑکے اور 282 لڑکیاں شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 سب سے زیادہ تشویشناک مہینہ ثابت ہوا، جب 171 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ ان میں 113 لڑکے اور 58 لڑکیاں شامل تھیں۔ اس کے مقابلے میں مارچ میں صرف 87 کیس رپورٹ ہوئے، جو سال کے پہلے چھ ماہ کا کم ترین ماہانہ ریکارڈ تھا۔
ماہانہ تفصیلات کے مطابق جنوری میں 125، فروری میں 117، مارچ میں 87، اپریل میں 121، مئی میں 108 اور جون میں 171 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں بچوں میں وائرس کی نشاندہی کا سلسلہ پورے عرصے کے دوران جاری رہا، جبکہ جون میں اس میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔
سرکاری نگرانی کے نظام میں بچوں کی عمر اور جنس کا ریکارڈ تو موجود ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وائرس انہیں کس ذریعے سے منتقل ہوا۔ ان اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انفیکشن ماں سے بچے میں منتقلی، آلودہ سرنجوں، غیر محفوظ خون کی منتقلی، طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے ناقص انتظامات یا کسی اور ذریعے سے ہوا۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سندھ میں 2019 کے رتوڈیرو ایچ آئی وی سانحے کے بعد بچوں میں وائرس کے متعدد کلسٹرز سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں کراچی کے ولیکا اسپتال میں بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے متعدد کیس رپورٹ ہوئے، جس کے بعد صحت کے اداروں میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
معروف ماہر امراضِ متعدی ڈاکٹر فیصل محمود نے بچوں میں ایچ آئی وی کے اتنی بڑی تعداد میں سامنے آنے والے کیسز کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال بچوں میں ایچ آئی وی کی وبا سے مطابقت رکھتی ہے، اگرچہ صرف رجسٹریشن ڈیٹا سے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بچے حال ہی میں متاثر ہوئے یا کئی سال پہلے انفیکشن کا شکار ہوئے تھے اور اب ان کی تشخیص ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف عمروں کے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تمام کیسز صرف ماں سے بچے میں منتقلی کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔
ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق ماضی میں ہونے والی متعدد تحقیقات بار بار غیر محفوظ انجیکشن کے استعمال کو بنیادی وجہ قرار دے چکی ہیں، اس لیے اب نئی تحقیقات کے بجائے نجی اور غیر رجسٹرڈ طبی مراکز کی مؤثر نگرانی، جنرل پریکٹیشنرز کی تربیت اور محفوظ انجیکشن کے استعمال کو عملی اور مالی طور پر قابلِ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف کلینکس بند کرنے یا وقتی پابندیاں لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ غیر رسمی طبی مراکز اور صحت فراہم کرنے والوں کو بھی ایک مؤثر ریگولیٹری نظام کے تحت لانا ہوگا، جہاں ان کی ذمہ داریاں اور خلاف ورزی پر سزائیں واضح ہوں۔
انہوں نے مزید تجویز دی کہ سندھ بھر کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے بچوں کی وسیع پیمانے پر ایچ آئی وی اسکریننگ کی جائے، کیونکہ صرف آپریشن سے پہلے مخصوص مریضوں کی اسکریننگ سے اصل صورتحال سامنے نہیں آ سکتی۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر اور ممتاز ماہر صحت عامہ پروفیسر شہزاد علی خان نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں میں ایچ آئی وی کا ایک بھی کیس سامنے آئے تو اس کی مکمل سائنسی اور وبائیاتی تحقیقات ہونی چاہئیں، کیونکہ سیکڑوں بچوں کا متاثر ہونا عوامی صحت کے ایک سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں ایچ آئی وی کے زیادہ تر کیسز انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول کے ناقص انتظامات، ایک ہی سرنج، آئی وی سیٹ اور کینولا کے دوبارہ استعمال، اور غیر محفوظ خون کی منتقلی کے باعث سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر خون کی منتقلی سے قبل صرف کراس میچ کیا جاتا ہے، جبکہ خون کو ایچ آئی وی اور دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے لیے مناسب انداز میں اسکرین نہیں کیا جاتا۔
پروفیسر شہزاد علی خان نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں ایچ آئی وی زیادہ تر مخصوص ہائی رسک گروپس تک محدود تھا، لیکن اب ایک “بریجنگ پاپولیشن” کے ذریعے وائرس عام آبادی تک منتقل ہو رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے سندھ میں اس صورتحال کو باقاعدہ وبا قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بڑے پیمانے پر ایچ آئی وی اسکریننگ، سیلف ٹیسٹنگ کی سہولت، عوامی آگاہی مہم، رابطوں کی تلاش (کانٹیکٹ ٹریسنگ) اور ہر کلسٹر کی تفصیلی وبائیاتی تحقیقات اسی طرز پر کی جائیں جیسے کووڈ-19 کے دوران کی گئی تھیں، تاکہ چھپے ہوئے مریضوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری علاج فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب سندھ محکمہ صحت اور صوبائی ایچ آئی وی/ایڈز پروگرام (سی ڈی سی-آئی) سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا اور سوالات بھی بھیجے گئے، تاہم بچوں میں ایچ آئی وی کے غیر معمولی اضافے، اس کی وجوہات اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے خبر فائل کیے جانے تک کوئی مؤقف موصول نہیں ہو سکا۔