وزیر خزانہ کی زیر صدارت کمیٹی نے 52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں 52 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے دی، جس کے بعد ان ادویات کی وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

منظور کی جانے والی ادویات میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسن سمیت مختلف سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جدید ادویات، انسولین، ویکسینز، اینٹی بایوٹکس اور دیگر ضروری ادویات شامل ہیں۔

حکام کے مطابق کمیٹی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے رجسٹرڈ تمام 52 نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی۔ یہ سفارشات اب وفاقی کابینہ کو بھیجی جائیں گی، جس کی منظوری کے بعد ڈریپ ان ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا، جس کے بعد انہیں پاکستان میں قانونی طور پر فروخت کیا جا سکے گا۔

اجلاس میں وزارتِ قومی صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث ہزاروں مریض جدید اور معیاری ادویات سے محروم رہے جبکہ کئی افراد اسمگل شدہ، غیر رجسٹرڈ یا مہنگی درآمدی ادویات استعمال کرنے پر مجبور تھے، جس سے ان کی صحت کو سنگین خطرات لاحق تھے۔

منظور شدہ ادویات میں دنیا کی معروف کینسر امیونو تھراپی دوا کی ٹروڈا (Pembrolizumab) بھی شامل ہے، جو 20 سے زائد اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نیوولومیب، ڈاساتینیب، ایرینوٹیکان، لیوکووورین، ہیوماڈور انسولین، ایڈالی مومیب، ریکومبیننٹ فیکٹر VIII، کاربی ڈوپا۔لیووڈوپا، ڈبیگاٹران، ہیپرین، میتھائل ڈوپا، میروپینم، فوسفومائسین اور دیگر اہم ادویات کی قیمتوں کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور عوامی مفاد کے مطابق ہونے چاہییں تاکہ مریضوں کو ضروری ادویات تک رسائی بھی حاصل رہے، ادویہ سازی کا نظام بھی مستحکم رہے اور ادویات عام شہری کی پہنچ میں بھی رہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری، ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ اور وزارتِ خزانہ، تجارت اور صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

صحت حکام کے مطابق وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری اور ڈریپ کے نوٹیفکیشن کے بعد یہ ادویات لائسنس یافتہ درآمد کنندگان، فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور فارمیسیوں کے ذریعے ملک بھر میں دستیاب ہو سکیں گی، جس سے مریضوں کو معیاری اور رجسٹرڈ ادویات تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں