کراچی میں ایچ آئی وی کے بعد خناق کا خطرہ بھی بڑھ گیا، سندھ میں مشتبہ کیسز ملک بھر میں سب سے زیادہ، 13 بچے جاں بحق

کراچی: کراچی میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد اب خناق (ڈفتھیریا) نے بھی صحت کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ رواں سال سندھ انفیکشز ڈیزیز اسپتال (SIH) میں خناق کے 30 مریض رپورٹ ہوئے، جن میں سے 13 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ صوبہ سندھ میں مشتبہ خناق کے کیسز بھی ملک بھر میں سب سے زیادہ سامنے آئے ہیں۔


دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 تک پاکستان بھر میں خناق کے 308 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سندھ سرفہرست ہے۔ سندھ میں اس عرصے کے دوران 113 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ خیبرپختونخوا میں 87، بلوچستان میں 64، پنجاب میں 35، اسلام آباد میں 7 اور گلگت بلتستان میں 2 مشتبہ کیسز سامنے آئے۔ آزاد کشمیر سے اس دوران کوئی مشتبہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔


صرف ہفتہ نمبر 26 کے دوران بھی ملک بھر میں خناق کے 3 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 سندھ اور ایک خیبرپختونخوا سے رپورٹ کیا گیا۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خناق ایک خطرناک اور انتہائی متعدی بیکٹیریائی بیماری ہے، جو ایک متاثرہ فرد سے دوسرے فرد

میں آسانی سے منتقل ہوسکتی ہے۔ یہ بیماری خصوصاً ایسے بچوں میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے جن کی حفاظتی ویکسینیشن مکمل نہ ہوئی ہو۔


طبی ماہرین کے مطابق خناق کی ابتدائی علامات میں گلے کے غدود کی سوجن، گلے میں سرمئی یا سفید جھلی بننا، تیز بخار، شدید گلے کا درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔


ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ بچوں کی حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس ہر صورت مکمل کرایا جائے، کیونکہ خناق سمیت متعدد جان لیوا بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ بروقت ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کسی بھی بچے میں مذکورہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ پیچیدگیوں اور اموات سے بچا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں