ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لیے ماہر امراضِ متعدی کی تعیناتی کی درخواست، محکمہ صحت سندھ اور ایم ایم آئی ڈی ایس پی سے مدد طلب

کراچی: کلثوم بائی ولیکا اسپتال انتظامیہ نے اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات کی تحقیقات اور انفیکشن کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے محکمہ صحت سندھ اور میڈیکل مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشیس ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان (MMIDSP) سے باضابطہ معاونت طلب کر لی ہے۔

اسپتال میں ماہر امراضِ متعدی (Infectious Diseases Specialist) موجود نہ ہونے کے باعث محکمہ صحت سندھ سے ڈیپوٹیشن پر ایک ماہر کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ ایم ایم آئی ڈی ایس پی سے بھی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے ممکنہ اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کی جانب سے محکمہ صحت سندھ کو باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ ایک ماہر امراضِ متعدی کو ڈیپوٹیشن پر ولیکا اسپتال تعینات کیا جائے تاکہ ایچ آئی وی سمیت دیگر متعدی بیماریوں کی تشخیص، نگرانی، انفیکشن کنٹرول اور ممکنہ ذرائع کی تحقیقات میں اسپتال کی معاونت کی جا سکے۔

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے فوکل پرسن ڈاکٹر سعادت میمن نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ نے میڈیکل مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشیس ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان (MMIDSP) سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ سوسائٹی کے ماہرین اسپتال کا دورہ کرکے انفیکشن کنٹرول کے انتظامات کا جائزہ لیں، ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے ممکنہ اسباب کی تحقیقات میں تکنیکی معاونت فراہم کریں اور اسپتال کے طبی عملے کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ایک ماہر امراضِ متعدی اسپتال میں خدمات انجام دینا شروع کر دے گا۔

دریں اثنا، کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے علاج اور انفیکشن کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سات رکنی انفیکشن پری وینشن اینڈ کنٹرول (IPC) کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق موجودہ کمیٹی میں کوئی مستقل ماہر امراضِ متعدی شامل نہیں، جس کی کمی کو محکمہ صحت سندھ سے ماہر کی تعیناتی کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسپتال انتظامیہ نے ایم ایم آئی ڈی ایس پی سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ کمیٹی کے ارکان اور طبی عملے کو انفیکشن پری وینشن، اسپتال میں انفیکشن کنٹرول، مریضوں کے تحفظ، بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق احتیاطی تدابیر کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کرے۔ ذرائع کے مطابق سوسائٹی کے ماہرین جلد اسپتال کا دورہ کرکے تکنیکی معاونت اور تربیتی سیشن منعقد کریں گے۔

یہ اقدامات صوبائی محتسب سندھ کی ہدایات کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز صوبائی محتسب کی ٹیم نے کلثوم بائی ولیکا اسپتال کا دورہ کرکے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے علاج، انفیکشن کنٹرول کے انتظامات اور خصوصی وارڈ پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا تھا۔ دورے کے بعد متعلقہ اداروں کو انفیکشن کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنانے، ماہر امراضِ متعدی کی تعیناتی، بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ بہتر بنانے اور متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال گزشتہ کئی ماہ سے بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز، علاج اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین علاج، ادویات، انڈومنٹ فنڈ اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد بار احتجاج بھی کر چکے ہیں، جس کے بعد صوبائی محتسب سندھ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اصلاحی اقدامات کی ہدایات جاری کی تھیں۔ انہی اقدامات کے تحت 25 بستروں پر مشتمل خصوصی وارڈ پر کام جاری ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انفیکشن پری وینشن کمیٹی کا قیام اور ماہر امراضِ متعدی کی تعیناتی کی کوششیں اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں