پنجاب میں اناج، سندھ میں پھل اور خیبرپختونخوا میں سبزیاں سب سے سستی, بلوچستان میں صحت بخش خوراک سب سے مہنگی، یو این رپورٹ

اسلام آباد: اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت بخش خوراک کی قیمتیں صوبوں کے درمیان نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ پنجاب میں اناج سب سے سستا، سندھ میں پھل اور خوردنی تیل نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں سبزیاں سب سے سستی ہیں۔ اس کے برعکس بلوچستان میں صحت بخش خوراک کے بیشتر بنیادی اجزا دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں۔

یہ انکشاف اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف، عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی ایف اے ڈی) کی مشترکہ رپورٹ “دی اسٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026” میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کو گھانا اور نائجیریا کے ساتھ ان تین ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں صحت بخش غذا کی لاگت کا صوبائی اور موسمی بنیادوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے میں اسلام آباد کو معیار (بینچ مارک) بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گندم، چاول اور دیگر اناج کی قیمتیں اسلام آباد کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کم ہیں، جبکہ گوشت، دودھ، انڈے اور دیگر حیوانی غذاؤں کی قیمتیں بھی پنجاب میں سب سے کم ریکارڈ کی گئیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں اناج، سبزیوں، پھلوں، دالوں، گریوں، بیجوں اور خوردنی تیل و چکنائی کی قیمتیں دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئیں، جس سے وہاں صحت بخش غذا کی مجموعی لاگت بھی سب سے زیادہ رہی۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں پھل اور خوردنی تیل و چکنائی سب سے کم قیمت پر دستیاب ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں سبزیوں کی قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقائی فرقوں کے باعث مختلف صوبوں میں رہنے والے خاندان ایک ہی معیار کی غذائیت حاصل کرنے کے لیے مختلف اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ صحت بخش خوراک کی قیمتیں سال بھر یکساں نہیں رہتیں بلکہ موسم کے ساتھ نمایاں طور پر تبدیل ہوتی ہیں۔ خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں تیسرے سہ ماہی، یعنی مون سون کے دوران، سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا کیونکہ اس عرصے میں پیداوار، رسد اور منڈیوں پر موسم کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ غذائیت سے متعلق پروگراموں، خوراک پر سبسڈی اور سماجی تحفظ کی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت صوبائی اور موسمی قیمتوں کے ان فرقوں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک کا شکار رہے، جو عالمی آبادی کا 7.8 فیصد بنتے ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ کم ہے، تاہم بھوک کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے۔

اسی طرح دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد کو معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، جبکہ تقریباً 77 کروڑ 90 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں صحت بخش غذا کی عالمی اوسط لاگت بڑھ کر 4.28 پرچیزنگ پاور پیریٹی (PPP) ڈالر فی فرد یومیہ ہو گئی، تاہم اس کے باوجود صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے والے افراد کی تعداد 2021 کے 2.97 ارب سے کم ہو کر 2.69 ارب رہ گئی، جس کی وجہ کئی ممالک میں آمدنی میں نسبتاً زیادہ اضافہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوشت، دودھ، انڈے، پھل اور سبزیاں صحت بخش غذا کی لاگت کا بڑا حصہ بنتے ہیں، جبکہ اناج کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے زرعی پیداوار، ٹرانسپورٹ، کولڈ چین، ذخیرہ اندوزی اور سپلائی نظام بہتر بنانے پر زور دیا ہے تاکہ غذائیت سے بھرپور خوراک عام لوگوں کی پہنچ میں آ سکے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی غذائیت کے اہداف کے حصول میں پیش رفت بدستور سست ہے۔ دنیا بھر میں صرف 30.8 فیصد بچوں کو متنوع غذا میسر آ رہی ہے، جبکہ 62.7 فیصد خواتین کم از کم تجویز کردہ غذائی گروپوں پر مشتمل خوراک استعمال کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین میں خون کی کمی اور بالغ افراد میں موٹاپے کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں