کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت سے منسلک ایچ آئی وی آؤٹ بریک میں مزید دو معصوم بچیوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی ہے، جس کے بعد ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 112 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضیا کالونی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب دو بیٹوں کے بعد ان کی 9 سالہ بیٹی کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی مثبت آگیا۔ متاثرہ والد نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ان کے 12 سالہ اور 3 سالہ بیٹوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی، جبکہ اب ان کی بیٹی بھی وائرس سے متاثر پائی گئی ہے۔
والد کے مطابق ان کی بیٹی کچھ عرصہ قبل سینے کے انفیکشن کے باعث ولیکا اسپتال میں زیر علاج رہی تھی۔ بچی کی طبیعت مسلسل خراب رہنے پر دوبارہ ٹیسٹ کرائے گئے تو ایچ آئی وی کی تصدیق ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے تینوں بچے اب ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، جس کے بعد پورا خاندان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔
ادھر ایک اور میٹروول کی رہائشی 3 سالہ بچی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ والدین کے مطابق ان کی بچی کا علاج بھی ولیکا اسپتال میں ہوا تھا۔ طبیعت بگڑنے پر جب ایچ آئی وی ٹیسٹ کرایا گیا تو اس کی رپورٹ مثبت آئی۔
واضح رہے کہ ولیکا اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی آؤٹ بریک کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل بھی متعدد بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کا مؤقف ہے کہ انہیں انصاف، شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی توقع ہے۔
دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے متاثرہ بچوں کی اسکریننگ، علاج اور مزید مشتبہ کیسز کی جانچ کا عمل جاری ہے، تاہم اس واقعے نے اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، مریضوں کی حفاظت اور طبی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔