کراچی: دماغ خور جرثومے نیگلیریا ایک اور شہری انتقال کرگیا


کراچی میں دماغ خور جرثومے نیگلیریا فاؤلری کا ایک اور شہری انتقال کرگیا، جس کے بعد رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد تین ہوگئی۔


اسپتال حکام کے مطابق کورنگی نمبر چار کے رہائشی 44 سال کے محمد امجد کو پانچ جولائی کو تیز بخار اور طبیعت خراب ہونے پر لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں تشخیصی ٹیسٹ کے بعد اس میں نیگلیریا فاؤلری کی تصدیق ہوئی تھی۔
اسپتال حکام کے مطابق مریض کو فالج کا دورہ بھی پڑا تھا اور مریض کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) منتقل کردیا گیا تھا، چھ جولائی کو مریض کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا تھا اور مریض کی جان بچانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن متاثرہ شخص سات جولائی منگل کو انتقال کرگیا۔


رواں سال فروری میں گلشنِ اقبال سے نیگلیریا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا، جس میں 36 سالہ خاتون جان کی بازی ہار گئی تھیں جبکہ 3 جون کو اورنگی ٹاؤن سے سامنے آنے والے دوسرے کیس میں 23 سالہ نوجوان انتقال کر گیا تھا۔
متاثرہ شخص کے اہل خانہ کے مطابق متوفی کہیں پکنک پر نہیں گیا، گھر سے آفس جاتا تھا اور علاقے کی مسجد میں نماز ادا کرتا تھا۔


طبی ماہرین کے مطابق نیگلیریا فاؤلری ایک جان لیوا جرثومہ ہے جو عموماً گرم میٹھے پانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ آلودہ پانی کے ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر براہِ راست دماغ تک پہنچتا ہے اور شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پانی کی ٹینکیوں اور ذخیرہ شدہ پانی میں کلورین کی گولیاں استعمال کریں، سوئمنگ سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔


دوسری جانب محکمہ صحت سندھ تاحال متاثرہ مریض کی مکمل ہسٹری فراہم کرنے سے قاصر ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے رہائشی علاقوں سے پانی کے نمونے بھی حاصل نہیں کیے جا سکے، جس سے جرثومے کے ممکنہ ذریعہ کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں