کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی کے واش روم میں خاتون کے بچے کو جنم دینے کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے طبی عملے کی غفلت اور نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دار ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) کے خلاف محکمانہ کارروائی اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی تربیت کی مدت میں تین ماہ اضافے کی سفارش کر دی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ، جو ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کو پیش کر دی گئی ہے، کے مطابق متاثرہ خاتون نادیہ رات تقریباً ساڑھے نو بجے گائنی وارڈ پہنچی تھیں لیکن انہیں بروقت طبی معائنہ اور ضروری سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کیا گیا اور انہیں صرف چہل قدمی کا مشورہ دے کر واپس بھیج دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت ڈیوٹی پر تعینات کنسلٹنٹ اور آر ایم او اپنی ذمہ داریوں پر موجود نہیں تھے، جس کے باعث مریضہ کی حالت کا بروقت جائزہ نہیں لیا جا سکا اور بعد ازاں اس نے اسپتال کے واش روم میں بچے کو جنم دیا۔
کمیٹی نے گائنی وارڈ کے احاطے میں غیر متعلقہ مرد افراد کی موجودگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے مریضوں کی رازداری اور اسپتال کے قواعد کے منافی قرار دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال کے سیکیورٹی انتظامات کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اور نگرانی کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنایا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے غفلت کے ذمہ دار آر ایم او کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے معاملہ محکمہ صحت سندھ کو بھجوانے کی سفارش کی ہے، جبکہ ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی تربیت میں تین ماہ اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
تحقیقات کے دوران متاثرہ خاتون نادیہ، ان کے شوہر اکرم، نومولود بچے اور وہ خاتون جس نے واش روم میں زچگی میں مدد فراہم کی تھی، کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، اسپتال ریکارڈ اور ڈیوٹی پر موجود عملے کے بیانات کا بھی جائزہ لیا۔
متاثرہ خاتون کے شوہر اکرم نے دعویٰ کیا کہ اسپتال انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کی ہے اور ان کی اہلیہ اور نومولود کے علاج کی پیشکش بھی کی، تاہم انہوں نے مزید علاج کے لیے نجی اسپتال کا انتخاب کیا۔ ان کے مطابق نومولود بچے کا نام “آزاد” رکھا گیا ہے اور ماں اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب واش روم میں بچے کی پیدائش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد محکمہ صحت سندھ اور جے پی ایم سی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔