کراچی: پاکستان میں زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے باعث روزانہ تقریباً 32 خواتین جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ ملک میں مانع حمل ادویات اور طریقہ کار کے استعمال کی شرح محض 38 فیصد ہے، جو کہ صحت عامہ کے شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
یہ بات ماؤں کے عالمی پر پلس کنسلٹنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار میں سامنے آئی ہے،
ملک بھر میں ماؤں کا عالمی دن عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی آبادی اور خواتین کی صورتحال کے حوالے سے سال 2023 کی مردم شماری کے تازہ ترین اعداد و شمار پر مبنی پلس کنسلٹنٹ کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جو پاکستانی ماؤں کی جدوجہد اور ان کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں خواتین کا حصہ 48.5 فیصد ہے، جس کی تعداد 11 کروڑ 71 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کی خواتین کی تعداد 6 کروڑ 94 لاکھ ہے، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ سے زائد شادی شدہ خواتین ‘ماں’ کے درجے پر فائز ہیں۔
تحقیق کے مطابق پاکستان میں شرح پیدائش اوسطاً 3.6 بچے فی خاتون ہے۔ تاہم، شہری اور دیہی علاقوں میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔ شہروں میں فی خاتون بچوں کی اوسط 3.0 ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 4.1 بچوں تک جا پہنچتی ہے، جو دیہی خواتین پر بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں اور صحت کی سہولیات کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں ماں کی صحت کے حوالے سے تشویشناک انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے باعث روزانہ تقریباً 32 خواتین جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں مانع حمل ادویات اور طریقہ کار کے استعمال کی شرح محض 38 فیصد ہے، جو کہ صحت عامہ کے شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی مائیں نہ صرف خاندان بلکہ ملکی معیشت اور معاشرت کا ستون ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماؤں کے عالمی دن پر محض تقاریب تک محدود رہنے کے بجائے ان کی صحت، تعلیم اور معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔