کراچی میں نوجوان منکی پاکس کا شکار ، مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھنے سے شہریوں میں خوف پھیلنے لگا، اسپتالوں میں ہائی الرٹ

کراچی: سندھ کے شہر خیرپور میں بچوں میں ایم پاکس (منکی پاکس) کے بعد کراچی میں 20 سالہ نوجوان میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی، شہر کے مختلف علاقوں میں مشتبہ کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق بفرزون کا رہائشی 20 سالہ نوجوان وائرس سے متاثر ہوا ہے، جسے فوری طور پر سندھ انفیکشیز ڈیزیز کنٹرول اسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے، جہاں اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
شہر کے مختلف اسپتالوں میں بھی ایسے متعدد مریض لائے جا رہے ہیں جن کے جسم پر چکن پاکس اور ایم پاکس سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ ولیکا اسپتال اور چمڑا اسپتال سمیت دیگر مراکز میں مشتبہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں ، خیرپور میں وباء کے پھیلائو پر پہلے ہی محکمہ صحت سندھ اسپتالوں کے عملے کو الرٹ کر چکا ہے۔
دوسری جانب شہر کے بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں ایم پاکس کے لیے خصوصی وارڈز بھی قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں مشتبہ مریضوں کو رکھا جائے گا۔ ان وارڈز کے لیے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
صورتحال کے پیش نظر شہر کے دو بڑے ٹرشری کیئر اسپتالوں نے اپنے عملے کے لیے ایڈوائزریز جاری کر دی ہیں۔ انڈس اسپتال کراچی کی جانب سے اپنے ملازمین کے لیے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اندرون سندھ خصوصاً خیرپور سے آنے والے ایسے مریض جن کے جسم پر دانے ہوں، انہیں فوری طور پر ایم پاکس کا مشتبہ کیس سمجھتے ہوئے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جائے۔
اسی طرح آغاخان یونیورسٹی اسپتال نے بھی اپنے طبی عملے کے لیے ایمرجنسی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ایم پاکس کے مریضوں سے نمٹتے وقت مکمل حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں۔ ایڈوائزری کے مطابق یہ وائرس قریبی جسمانی رابطے متاثرہ زخموں یا آلودہ اشیاء کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے، اس لیے ماسک، دستانے اور دیگر حفاظتی سامان (پی پی ایز) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق
ایم پاکس کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم درد اور کمزوری شامل ہیں، جبکہ چند دن بعد جسم پر دانے ظاہر ہوتے ہیں جو چھالوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر کسی شخص میں ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر خود کو الگ کر کے قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

کراچی میں نوجوان منکی پاکس کا شکار ، مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھنے سے شہریوں میں خوف پھیلنے لگا، اسپتالوں میں ہائی الرٹ

کراچی میں ڈینگی سے رواں سال کی پہلی ہلاکت رپورٹ

پی ایم ڈی سی کا بڑا فیصلہ، نجی میڈیکل کالجز میں خالی نشستیں، ایم بی بی ایس کا میرٹ 52 فیصد مقرر