اسلام آباد: امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے پاکستان سے برآمد ہونے والے شہد اور متعدد دیگر غذائی مصنوعات کے بارے میں حفاظتی خدشات کے باعث امپورٹ الرٹس جاری کر دیے ہیں جن کے تحت امریکی بندرگاہوں پر ایسی کھیپوں کو فوری طور پر روکنے اور ممکنہ طور پر ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
ایف ڈی اے کے مطابق ان مصنوعات میں اینٹی بایوٹک ادویات کے اجزا، سالمونیلا بیکٹیریا، الرجی کا سبب بننے والےغیر ظاہر شدہ اجزاء، زرعی ادویات کی باقیات اور زہریلی دھاتوں کی موجودگی جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔
ایف ڈی اے کے امپورٹ الرٹ ڈیٹا بیس کے مطابق 5 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا امپورٹ الرٹ 36-04 پاکستانی شہد اور بلینڈڈ سیرپ کی کھیپوں کو اس بنیاد پر روکنے کی اجازت دیتا ہے جس کے مطابق ان میں ایسی اینٹی بایوٹک ادویات کی باقیات پائی گئی ہیں جو امریکی غذائی قوانین کے تحت شہد میں قابل قبول نہیں ہیں۔
ماہرین خوراک کے مطابق شہد میں اینٹی بایوٹکس کی موجودگی عام طور پر شہد کی مکھیوں کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا نتیجہ ہوتی ہے، تاہم ایسی باقیات انسانی صحت کے لیے خطرات اور اینٹی مائیکروبیل مزاحمت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ایف ڈی اے کے نظام کے تحت کسی بھی امپورٹ الرٹ کے دائرے میں آنے والی مصنوعات کو امریکی بندرگاہوں پر معمول کے معائنے کے بغیر ہی روک لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد برآمد کنندگان کو لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کی مصنوعات امریکی معیار کے مطابق محفوظ ہیں، بصورت دیگر کھیپیں ضبط بھی کی جا سکتی ہیں۔
ایف ڈی اے کے ریکارڈ میں پاکستان سے برآمد ہونے والی دیگر غذائی مصنوعات کے حوالے سے بھی متعدد امپورٹ الرٹس درج ہیں۔ 5 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا امپورٹ الرٹ 99-19 ایسی غذائی اشیا سے متعلق ہے جن میں سالمونیلا بیکٹیریا کی موجودگی کا خدشہ ہو۔ سالمونیلا بیکٹیریا خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کی ایک اہم وجہ ہے جو شدید اسہال، بخار اور پیٹ درد کا باعث بن سکتی ہے۔
اسی طرح امپورٹ الرٹ 99-22 جو 19 فروری 2026 کو جاری ہوا، ان مصنوعات پر لاگو ہوتا ہے جن کے لیبل پر بڑے الرجین اجزاء جیسے دودھ، گندم، سویا یا گری دار میوے کی موجودگی ظاہر نہیں کی گئی۔ ایسے اجزاء کی عدم نشاندہی حساس افراد میں شدید الرجک ردعمل کا سبب بن سکتی ہے۔
ایف ڈی اے کی فہرست کے مطابق امپورٹ الرٹ 99-08 میں ایسی پراسیس شدہ غذائی مصنوعات شامل ہیں جن میں زرعی ادویات کی باقیات حد سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہو، جبکہ امپورٹ الرٹ 99-42 ان غذاؤں سے متعلق ہے جن میں سیسہ، آرسینک یا کیڈمیم جیسی زہریلی بھاری دھاتیں پائی جائیں۔
اسی طرح امپورٹ الرٹ 23-14 میں مائیکوٹاکسن سے آلودہ غذائی اشیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ زہریلے مرکبات بعض فنگس کے ذریعے اناج اور دیگر فصلوں پر پیدا ہوتے ہیں اور طویل مدت تک استعمال کی صورت میں جگر اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایف ڈی اے نے 3 مارچ 2026 کو امپورٹ الرٹ 45-02 بھی جاری کیا جس میں غیر قانونی یا غیر ظاہر شدہ رنگوں کے استعمال والی غذائیں شامل ہیں، جبکہ اسی تاریخ کو جاری امپورٹ الرٹ 99-45 ان مصنوعات سے متعلق ہے جن میں غیر محفوظ یا غیر منظور شدہ فوڈ ایڈیٹوز پائے جائیں۔
اس سے قبل 30 جنوری 2026 کو امپورٹ الرٹ 99-21 بھی جاری کیا گیا تھا جس کے تحت ایسی غذائی مصنوعات کو روکنے کی اجازت دی گئی جن میں سلفائٹنگ ایجنٹس کی موجودگی ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ کیمیائی مادے بعض خشک غذاؤں اور سمندری خوراک میں محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور حساس افراد میں سانس کے مسائل یا الرجی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ماہرین خوراک کے مطابق ایف ڈی اے کے امپورٹ الرٹس کا مقصد ممکنہ طور پر غیر محفوظ غذائی مصنوعات کو امریکی صارفین تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے۔ ان الرٹس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی تمام غذائی برآمدات پر پابندی لگا دی گئی ہے، تاہم ان کے تحت مشتبہ کھیپوں کو اس وقت تک روکا جا سکتا ہے جب تک برآمد کنندگان مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کے شواہد فراہم نہ کر دیں۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کو شہد، سمندری خوراک، مصالحہ جات، چاول اور مختلف پراسیس شدہ غذائیں برآمد کرتا ہے اور ایسے امپورٹ الرٹس برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنی غذائی برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوالٹی کنٹرول، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فوڈ سیفٹی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ عالمی منڈیوں میں اعتماد برقرار رکھا جا سکے-
