اسلام آباد: پاکستان میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپا تیزی سے ایک بڑا صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور تازہ اندازوں کے مطابق 5 سے 19 سال کی عمر کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد بچے اور نوجوان زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں جس کے باعث پاکستان اس مسئلے سے متاثرہ ممالک میں دنیا میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں تقریباً 80 لاکھ موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ باقی بڑی تعداد زائد وزن کے مسئلے سے دوچار ہے۔ یوں مجموعی طور پر زائد وزن یا موٹاپے سے متاثرہ بچوں اور نوجوانوں کی تعداد 1 کروڑ 80 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
عالمی سطح پر متاثرہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے، بھارت دوسرے، امریکہ تیسرے اور انڈونیشیا چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان اس فہرست میں پانچویں نمبر پر شامل ہے۔
اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 19 سال کی عمر کے دو سو ملین سے زیادہ بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد چند بڑے ممالک میں پائی جاتی ہے جہاں آبادی زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوراک اور طرزِ زندگی میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چین میں تقریباً 6 کروڑ 20 لاکھ، بھارت میں 4 کروڑ 10 لاکھ، امریکہ میں 2 کروڑ 70 لاکھ اور انڈونیشیا میں تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں موٹاپے میں تیزی سے اضافہ عالمی سطح پر خوراک اور طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر درمیانی آمدنی والے ممالک میں بچوں کے غذائی رجحانات اور جسمانی سرگرمی میں کمی نے اس مسئلے کو مزید بڑھایا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے اندازوں کے مطابق 2010 کے بعد بچوں میں ہائی باڈی ماس انڈیکس کی شرح میں سالانہ اوسطاً سات فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بچوں میں موٹاپے کی شرح سالانہ دس فیصد سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔
عمر کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو 5 سے 9 سال کے تقریباً 61 لاکھ بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 10 سے 19 سال کے نوجوانوں میں یہ تعداد ایک کروڑ 22 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں بڑھتا ہوا وزن صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سنگین طبی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچوں میں ہائی بلڈ پریشر جیسی علامات پائی جا سکتی ہیں جو زیادہ وزن سے جڑی ہوتی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بچوں میں خون میں شوگر اور چربی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح اندازہ لگایا گیا ہے کہ 40 لاکھ سے زیادہ پاکستانی بچے فیٹی لیور کی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں جو موٹاپے سے منسلک ایک اہم طبی پیچیدگی سمجھی جاتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ اندازوں کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ بچے موٹاپے کا شکار تھے اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2040 تک یہ تعداد بڑھ کر 22 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچپن میں موٹاپا مستقبل میں ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دیگر غیر متعدی امراض کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں بچوں میں ان بیماریوں کی ابتدائی علامات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں غیر صحت بخش خوراک، میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بچوں کو نشانہ بنا کر جنک فوڈ کی بڑھتی ہوئی تشہیر شامل ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے اندازہ ہے کہ 11 سے 17 سال کے تقریباً 87 فیصد بچے مطلوبہ جسمانی سرگرمی پوری نہیں کرتے جو بچوں میں موٹاپے کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح کو قابو میں نہ لایا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دیگر میٹابولک امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
