کراچی، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں پرتشدد مظاہرے، کم از کم 25 افراد جاں بحق، 130 سے زائد زخمی؛ اسپتال ہائی الرٹ

کراچی: کراچی، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں اتوار کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 25 افراد جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے تصادم میں ہوئیں جہاں مشتعل مظاہرین نے سفارتی کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اسپتال حکام کے مطابق کراچی میں 10 افراد، اسلام آباد کے ریڈ زون میں دو اور گلگت بلتستان میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں اور فائرنگ کے دوران زخمی ہوئے۔

کراچی میں پرتشدد واقعات اس وقت پیش آئے جب امریکی قونصلیٹ کے باہر ہونے والا احتجاج اچانک شدت اختیار کرگیا اور مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں اور فائرنگ شروع ہوگئی۔

اسپتال حکام کے مطابق قونصلیٹ کے قریب ہنگامہ آرائی کے بعد متعدد زخمیوں اور لاشوں کو ٹراما سینٹر کراچی منتقل کیا گیا۔

ٹراما سینٹر کراچی کے سربراہ ڈاکٹر صابر میمن نے تصدیق کی کہ اسپتال میں 8 لاشیں لائی گئیں جبکہ 2 زخمی بعد میں دورانِ علاج دم توڑ گیا جس کے بعد کراچی میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی۔

ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق کراچی کے مختلف اسپتالوں میں مجموعی طور پر 73 زخمیوں کو منتقل کیا گیا جن میں سے 49 کو ٹراما سینٹر لایا گیا جہاں 2 زخمی بعد میں جاں بحق ہوگیا جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر زخمیوں کو گولی لگنے کے زخم آئے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو اسپتال پہنچتے ہی فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ 10 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
14 زخمیوں کے شہر کے دو نجی اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔
ٹراما سینٹر میں زیر علاج بعض زخمی مظاہرین کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے ایک جتھے نے قونصلیٹ کے احاطے کے کچھ حصوں میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔

ایک زخمی مظاہرین نے بتایا کہ وہ قونصلیٹ کے باہر احتجاج میں شامل تھے کہ اچانک کچھ لوگ کمپاؤنڈ کی طرف دوڑ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ جب چند مظاہرین اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تو فائرنگ شروع ہوگئی اور کئی افراد گولی لگنے سے گر گئے۔

ایک اور زخمی مظاہرین نے بتایا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی ہر طرف افراتفری پھیل گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے جبکہ متعدد افراد گولیوں کا نشانہ بنے جنہیں بعد میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسلام آباد میں بھی صورتحال کشیدہ رہی جہاں ریڈ زون میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور کم از کم 19 زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق 24 سے 25 سال عمر کے دو نوجوانوں کی لاشیں پولی کلینک اسپتال منتقل کی گئیں جبکہ متعدد زخمیوں کو وفاقی دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ ممکنہ مزید بدامنی کے پیش نظر اسلام آباد میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

ادھر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بھی مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کرگئے جہاں کم از کم 13 افراد کے جاں بحق ہونے اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 43 افراد زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے جس کے باعث صورتحال کے بارے میں درست معلومات کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

پرتشدد واقعات کے بعد سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔

انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو جاری ہدایات میں کہا کہ اسپتالوں میں سیکیورٹی انتظامات فوری طور پر مزید سخت کیے جائیں اور آنے جانے والے افراد کی کڑی نگرانی کی جائے۔

وزیر صحت نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے اور جہاں کیمرے موجود نہیں وہاں متبادل نگرانی کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو مشکوک افراد پر نظر رکھنے اور طبی عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رکھنے کا بھی حکم دیا۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام اہم شعبوں کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے اور ضرورت پڑنے پر عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کی جاسکتی ہیں۔

حکام کے مطابق محکمہ صحت سندھ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے جبکہ اسپتالوں کو ہنگامی ادویات، خون کی فراہمی اور ٹراما کیئر ٹیموں کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے کراچی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر حساس علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے