کراچی میں فروخت ہونے والا دودھ اور مرغی کا گوشت خطرناک جراثیم سے آلودہ، تحقیق میں انکشاف

اسلام آباد: کراچی کے بازاروں میں فروخت ہونے والا دودھ اور مرغی کا گوشت خطرناک حد تک اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم سے آلودہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان غذائی اشیاء میں ایشرشیا کولی (E. coli) کی ایسی اقسام پائی گئی ہیں جو متعدد ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہیں، جس سے نہ صرف خوراک کا تحفظ خطرے میں پڑ گیا ہے بلکہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر) کے خاموش پھیلاؤ پر بھی سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

 

یہ انکشاف اسلام آباد میں 16 اور 17 فروری کو منعقدہ نیشنل کانفرنس برائے فوڈ بورن اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس میں کیا گیا، جس کا انعقاد Food and Agriculture Organization of the United Nations (FAO)، جمہوریہ کوریا کی وزارت خوراک و ادویات تحفظ اور پاکستانی حکام کے تعاون سے کیا گیا تھا۔

 

کانفرنس میں انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے ماہرین نے “ون ہیلتھ” فریم ورک کے تحت شرکت کی۔

جامعہ کراچی کے ڈاکٹر ایس ایم غفران سعید نے کراچی میں کیے گئے ایک ابتدائی سرویلنس مطالعے کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شہری ریٹیل مارکیٹس سے اکتوبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران 100 نمونے حاصل کیے گئے، جن میں 50 کچے دودھ اور 50 مرغی کے گوشت کے تھے۔ لیبارٹری تجزیے سے معلوم ہوا کہ دونوں اقسام میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ای کولی موجود تھی، تاہم دودھ کے نمونوں میں مزاحمت کی شرح زیادہ پائی گئی۔

 

تحقیق کے مطابق دودھ میں Augmentin کے خلاف زیادہ مزاحمت سامنے آئی، جبکہ ceftriaxone اور aztreonam کے خلاف بھی نمایاں مزاحمت دیکھی گئی۔ بعض ادویات کے امتزاج، جیسے cefoperazone کے ساتھ sulbactam اور piperacillin کے ساتھ tazobactam، نسبتاً مؤثر ثابت ہوئے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ مویشیوں میں بیماریوں کی روک تھام اور افزائش کے لیے اینٹی بایوٹکس کا بے دریغ استعمال اور ذبح و فروخت کے دوران ناقص صفائی کے انتظامات مزاحم جراثیم کے پھیلاؤ کو بڑھا رہے ہیں۔

 

کچا دودھ اور بغیر مکمل صفائی کے فروخت ہونے والا گوشت ایسے جراثیم کے لیے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں جو خوراک کے ذریعے انسانوں تک منتقل ہو جاتے ہیں۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم زیادہ تر دودھ بغیر اُبالے غیر رسمی ذرائع سے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پولٹری مارکیٹس میں موقع پر ذبح کا رواج عام ہے۔

 

ماہرین کے مطابق یہ عوامل آلودگی کے خطرات میں اضافہ اور مؤثر نگرانی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو سنگین خطرہ قرار دیا جا چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اے ایم آر اکیسویں صدی کے بڑے عوامی صحت کے خطرات میں شامل ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں اموات سے منسلک ہے۔

کانفرنس کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غذائی اشیا کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ، ڈیری اور پولٹری سپلائی چین کی سخت نگرانی، اور اینٹی بایوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ عوام کو بھی ہدایت کی گئی کہ دودھ کو ابال کر یا پیسچرائز کر کے استعمال کریں، کچے گوشت کو احتیاط سے سنبھالیں اور مرغی کو اچھی طرح پکائیں تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر اینٹی بایوٹکس کے استعمال اور خوراک کی پیداوار کے نظام پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو مزاحم جراثیم خاموشی سے منڈیوں سے گھروں تک منتقل ہوتے رہیں گے اور ایسے انفیکشنز میں اضافہ ہوگا جن کا علاج دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے