lاسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی جانب سے کراچی میں ایک تقریب کے دوران کیمرہ مین کو گٹکا نہ کھانے اور اس کے بجائے پان چبانے کو نسبتاً کم نقصان دہ قرار دینے کے بیان پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پان کو محفوظ متبادل سمجھنا سائنسی شواہد کے منافی ہے کیونکہ پان میں استعمال ہونے والی چھالیہ (سُپاری) اور تمباکو بذاتِ خود منہ کے کینسر کا سبب بننے والے مادے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے دی لانسیٹ آنکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں منہ کے کینسر کے ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد کیسز تمباکو، نسوار، گٹکا اور چھالیہ جیسی مصنوعات کے استعمال کے باعث تھے، جو منہ کے کینسر کے مجموعی عالمی بوجھ کا تقریباً 31 فیصد بنتے ہیں۔ تحقیق میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو وہ خطے قرار دیا گیا ہے جہاں ان مصنوعات کے باعث منہ کے کینسر کے کیسز کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک اس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پان میں استعمال ہونے والی چھالیہ یا سُپاری عام طور پر ایک بے ضرر شے سمجھا جاتا ہے، حالانکہ عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے، انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے چھالیہ کو کینسر پیدا کرنے والا ثابت شدہ مادہ قرار دے رکھا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چھالیہ مسلسل چبانے سے منہ کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ تبدیلیاں کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ پان عام طور پر پتے میں چونا، کتھا اور چھالیہ لپیٹ کر بنایا جاتا ہے اور کئی افراد اس میں تمباکو بھی شامل کرتے ہیں۔ اگرچہ بغیر تمباکو والا پان نسبتاً کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، تاہم چونا اور چھالیہ منہ کی اندرونی جھلی کو مسلسل زخمی کرتے ہیں، جس سے منہ میں اکڑاؤ پیدا ہو جاتا ہے اور منہ کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت ایک خطرناک بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو آگے چل کر منہ کے کینسر میں تبدیل ہونے کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کے بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کام کرنے والے آنکولوجسٹس کے مطابق منہ، زبان اور حلق کے کینسر کے مریضوں میں گٹکا، تمباکو والا پان، چھالیہ اور ماوا کے استعمال کی طویل تاریخ عام طور پر سامنے آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گٹکا پر پابندیوں کے بعد کئی افراد نے پان کو نسبتاً محفوظ سمجھ کر اختیار کر لیا ہے، حالانکہ طبی اعتبار سے پان بھی محفوظ نہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرکاری سطح پر یہ تاثر دیا جائے کہ پان نسبتاً کم نقصان دہ یا محفوظ ہے تو اس سے عوام میں غلط فہمی پیدا ہوگی اور تمباکو و چھالیہ کے خلاف جاری آگاہی مہمات متاثر ہوں گی۔ ان کے مطابق عوامی پیغام واضح ہونا چاہیے کہ گٹکا ہو یا پان، چھالیہ ہو یا ماوا، منہ میں رکھی جانے والی ان تمام مصنوعات کا طویل استعمال صحت کے لیے خطرناک ہے۔
بین الاقوامی محققین کا کہنا ہے کہ اگر چھالیہ اور تمباکو سے بنی مصنوعات پر مؤثر کنٹرول، فروخت کے ضابطے، عوامی آگاہی اور خطرے سے دوچار افراد کی بروقت اسکریننگ کی جائے تو منہ کے کینسر کے ہزاروں کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ بعض صوبوں میں گٹکا پر پابندی عائد ہے، تاہم اس پر عملدرآمد غیر مؤثر ہے اور پان و چھالیہ آج بھی کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو منہ کے کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں تمباکو اور چھالیہ سے بنی تمام مصنوعات کی حوصلہ شکنی، فروخت پر مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی مہمات اور خطرے سے دوچار افراد کے لیے باقاعدہ منہ کے معائنے شامل ہوں۔
