چمن بلوچستان سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ نوجوان کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز کا شکار ہو گیا۔
تقریباً چھ ہفتے پہلے اس کے ہاتھ پر کتے نے کاٹا تھا۔ کاٹنے کے بعد نہ زخم کو اچھی طرح دھویا گیا اور نہ ہی مکمل اور درست انجیکشن لگوائے گئے۔ مقامی ڈاکٹر سے لگوائے گئے انجیکشن کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔
تین دن پہلے نوجوان کو کتے کے کاٹنے کی جگہ پر درد شروع ہوا اور اس کے رویے میں تبدیلی آئی۔ جب اسے انڈس اسپتال کراچی کے ریبیز سے بچاؤ کے مرکز لایا گیا تو اس میں ریبیز کی واضح علامات موجود تھیں، جن میں پانی اور ہوا سے خوف شامل تھا۔
ڈاکٹروں نے اہلِ خانہ کو بیماری اور اس کے انجام کے بارے میں آگاہ کیا، تاہم خاندان نے اسپتال میں داخل کرانے سے انکار کر دیا اور مریض کو اپنی ذمہ داری پر واپس لے گئے۔
ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے، لیکن بروقت اور مکمل علاج سے اس سے بچا جا سکتا ہے۔
