آخر کب تک ؟؟؟

یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ بلدیاتی حکومت، محکمہ صحت اور سندھ حکومت کی نااہلی کی ایک اور مثال ہے۔
ضلع سانگھڑ کے علاقے جھول میں گھر کے باہر کھیلتے ہوئے 8 سالہ معصوم بچی کو آوارہ کتوں نے کاٹ لیا۔
بچی کے چچا کے مطابق بچی کو قریبی اسپتال لے گئے جہاں سے انجکشن بھی لگایا گیا۔
انڈس اسپتال کے مطابق بچی کے جو اینٹی ریبیز ویکسین دی گئی وہ درست انداز میں نہیں لگی جس کی وجہ سے بچی میں ریبیز علامات ظاہر ہوئیں۔
انڈس اسپتال ڈاگ بائیٹ کلینک کے سربراہ آفتاب گوہر کے مطابق بچی کو ڈیڑھ ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا اور اب بچی میں ریبیز کی علامات ہائیڈروفوبیا اور ایروفوبیا ظاہر ہوگئیں اور بچی منگل کی صبح انڈس اسپتال میں انتقال کرگئی۔
سوال یہ ہے کہ کراچی اور سندھ کے عوام کب تک آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟ صرف صرف جنوری کے مہینے میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے اور گزشتہ سال پچاس سے ساٹھ ہزار افراد کو آوارہ کتوں نے کاٹ ایس کے نتیجے میں گزشتہ سال ریبیز سے 21 افراد انتقال کرگئے۔
ماہرین کہتے ہیں اگر کتا کاٹ لے تو زخم کو پندرہ منٹ تک صابن سے فوری دھوئیں اور اینٹی ریبیز ویکسین ناگزیر ہے، مگر جب ریاست ہی لاپروا ہو تو معصوم جانیں یوں ہی قربان ہوتی رہتی ہیں۔
سوال صرف اتنا ہے کہ آخر کب تک؟
آخر کب تک سندھ کے باسی آوارہ کتوں کے رحم وکرم پر رہیں گے؟
ریبیز فری سندھ کا خواب کب پورا ہوگا؟؟
کتوں کو مارنے یا انہیں نیوٹر کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ بھی پہنایا جائے گا یا صرف فائلوں کی حد تک منصوبے شروع ہونگے اور معصوم بچے انتقال کرتے رہیں گے؟؟
آخر کب تک؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے