کراچی: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے وفاقی وزارت صحت کی ہدایت پر سندھ میں ایم ڈی کیٹ کا مشترکہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم کونسل حکام کا کہنا ہے کہ اندرونی جانچ میں کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔
پی ایم ڈی سی حکام نے بتایا کہ کونسل سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کی سیبا ٹیسٹنگ سروسز کے تحت منعقدہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ صحت سندھ سے رابطہ کرے گی۔ ان کے مطابق اس عمل میں صوبائی محکمہ صحت، پی ایم ڈی سی اور امتحان منعقد کرنے والا ادارہ مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔
تاہم کونسل حکام کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی پہلے ہی امتحان کا اندرونی طور پر جائزہ لے چکی ہے اور اس میں کوئی بے ضابطگی نہیں ملی۔ مشترکہ جائزے کا فیصلہ وزارت صحت کی جانب سے شفافیت اور منصفانہ انعقاد سے متعلق شکایات کی مکمل تحقیقات کی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت کراچی میں امتحان دینے والے امیدواروں کے غصے اور مایوسی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جنہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا تمام امیدواروں کو یکساں اور منصفانہ موقع فراہم کیا گیا تھا۔ وزارت صحت نے پی ایم ڈی سی سے ان شکایات کی تحقیقات کرکے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔
پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کے نام دو اکتوبر کو ارسال کردہ خط میں وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے منصفانہ انعقاد پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خط کے مطابق سوشل میڈیا پر بھی متعدد شکایات سامنے آرہی ہیں جبکہ عوامی نمائندوں نے بھی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور شفافیت اور انصاف یقینی بنانے کے لیے مکمل تحقیقات چاہی ہیں۔ تحقیقات کے لیے پانچ نکات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں نتائج کا تجزیہ، امتحانی ریکارڈ اور شکایات کی جانچ اور امتحان پر اثرانداز ہونے والی کسی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین شامل ہے۔
وزارت نے ہر امتحانی مرکز کے نتائج کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جس میں امیدواروں کی تعداد، حاصل کردہ نمبر اور شرح، کامیابی کی شرح اور زیادہ نمبر لینے والے امیدواروں کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے گا۔ مختلف مراکز کے نتائج میں کسی غیر معمولی یا نمایاں فرق کی جانچ بھی کرنے کو کہا گیا ہے۔
وزارت نے تمام متعلقہ امتحانی ریکارڈ اور ڈیٹا محفوظ کرکے ان کی جانچ کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس میں حاضری کی شیٹس، نشستوں کی ترتیب، امتحانی مراکز کا ریکارڈ، نتائج کا ڈیٹا، نگرانی کے انتظامات اور جہاں اجازت ہو، الیکٹرانک یا ڈیجیٹل ریکارڈ شامل ہیں۔
امتحانی طریقہ کار میں بے قاعدگیوں، غیر مجاز مدد، کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینے، پرچہ لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں یا انتظامی کوتاہیوں سے متعلق شکایات اور الزامات کی تحقیقات بھی طلب کی گئی ہیں۔ خط کے مطابق ان شکایات کی جانچ قابل تصدیق شواہد اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔
امتحان کے انعقاد اور نتائج کی تیاری سے متعلق رپورٹس اور ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ اس طرح مجوزہ جانچ میں امتحانی انتظامات کے ساتھ نتائج مرتب کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت نے کہا ہے کہ اگر کسی بے ضابطگی، بدعنوانی، تکنیکی خرابی یا دیگر عامل نے امتحان کی شفافیت یا نتائج کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہو تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ تاہم خط میں کسی خلاف ورزی کو ثابت شدہ قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی فرد یا ادارے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
سیکشن آفیسر ایڈمن فائیو محمد اسحاق کے دستخط سے جاری خط میں ضروری کارروائی کرکے 15 دن کے اندر رپورٹ وزارت کو پیش کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط کی نقول وفاقی وزیر صحت، وفاقی سیکریٹری صحت، پی ایم ڈی سی رجسٹرار اور ایڈیشنل سیکریٹری کے دفاتر کو بھی بھیجی گئی ہیں۔
وزارت کے خط میں امتحان منسوخ کرنے، دوبارہ لینے یا نتائج میں تبدیلی کا حکم نہیں دیا گیا۔ پی ایم ڈی سی حکام کا کہنا ہے کہ کونسل مشترکہ جائزے کے لیے رابطہ کرے گی، تاہم اس کی اندرونی جانچ میں کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔