کراچی: ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 کا امتحان منعقد ہوا، تاہم شدید گرمی، حبس اور بعض انتظامی مشکلات کے باعث امیدواروں کے لیے امتحان کا دن کڑا امتحان بن گیا۔ کراچی کے دو امتحانی مراکز این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں تقریباً 11 ہزار امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی۔
صبح 10 بجے شروع ہونے والا ایم ڈی کیٹ کا امتحان تین گھنٹے جاری رہا۔ امتحانی مراکز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ پرچہ بھی سخت سیکیورٹی میں مراکز تک پہنچایا گیا۔
تاہم امتحان کے دوران شدید گرمی اور حبس نے امیدواروں کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم امتحانی پنڈال کے بعض بلاکس میں پنکھے کام نہ کرنے کی شکایات سامنے آئیں، جس کے باعث طلبہ کو شدید گرمی میں امتحان دینا پڑا۔
گرمی کی شدت کے باعث متعدد طلبہ کی طبیعت خراب ہوئی، جنہیں موقع پر موجود میڈیکل ٹیموں نے فوری طبی امداد فراہم کی۔ متاثرہ طلبہ کو او آر ایس اور جوس پلایا گیا جبکہ طبی عملے نے بعض امیدواروں کا بلڈ پریشر بھی چیک کیا۔
امتحان دینے والے امیدواروں کا کہنا تھا کہ امتحان کی تیاری اور ذہنی دباؤ کے ساتھ کراچی کی شدید گرمی اور حبس نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کام کے باعث بعض امیدواروں کو امتحانی مراکز تک پہنچنے میں بھی سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ایم ڈی کیٹ کے پرچے کی سیکیورٹی اور جعلی پرچے کے دعوؤں کے حوالے سے آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ بھی امتحان سے قبل بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی جس کے بعد ان کی طبیعت بہتر ہوگئی۔
ڈاکٹر آصف شیخ نے طبیعت بہتر ہونے کے بعد بتایا کہ ان کے بے ہوش ہونے کی وجہ نیند پوری نہ ہونا تھی۔ ان کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے جعلی پرچے کو سوشل میڈیا پر آؤٹ کرنے کی تقریباً آٹھ مرتبہ کوشش کی گئی، تاہم تمام کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ماہرین کی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ دو راتوں سے پرچے کی نگرانی کر رہے تھے اور گزشتہ رات بھی نیند پوری نہیں ہوسکی۔ رات بھر جاگنے کے بعد وہ صبح سکھر کے امتحانی مرکز پہنچے، جہاں طبیعت خراب ہونے کے باعث بے ہوش ہوگئے۔
ڈاکٹر آصف شیخ نے کہا کہ الحمدللہ اب وہ مکمل طور پر روبصحت ہیں اور پرچہ آؤٹ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
ایم ڈی کیٹ 2026 کے دوران کراچی میں امیدواروں کو شدید گرمی اور حبس کے ساتھ ساتھ بعض انتظامی مسائل کا بھی سامنا رہا، جس پر طلبہ اور والدین کی جانب سے امتحانی مراکز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔