کراچی: قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ماہرین کی عالمی تحقیق میں دل کے دورے کا فوری سبب نہ بننے والی اضافی شریانوں میں اسٹینٹ ڈالنے سے پہلے خون کی فراہمی جانچنے کی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹر عبدالحکیم، ڈاکٹر جہانگیر علی شاہ اور ڈاکٹر احسن علی لاکھو کی شمولیت سے ہونے والی یہ تحقیق دنیا کے معتبر ترین طبی جریدوں میں شمار ہونے والے ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں دل کے شدید دورے کا شکار 1823 مریضوں کو شامل کیا گیا، جن میں 200 سے زائد مریض کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں زیر علاج تھے۔
ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے تقریباً ہر دوسرے مریض میں دورے کا سبب بننے والی شریان کے علاوہ دوسری شریانوں میں بھی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں، تاہم ہر رکاوٹ میں اسٹینٹ ڈالنا ضروری نہیں ہوتا۔
تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ ایسی اضافی تنگ یا بند شریانوں کا علاج صرف انجیوگرافی کی تصاویر دیکھ کر کیا جائے یا جدید ’’اینجیو ایف ایف آر‘‘ ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ رکاوٹ واقعی دل کے پٹھوں تک خون کی فراہمی متاثر کررہی ہے یا نہیں۔
مریضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ مجموعی طور پر 913 مریضوں کا علاج خون کے بہاؤ کی جانچ پر مبنی فزیالوجی گائیڈڈ طریقے سے کیا گیا، جبکہ 910 مریضوں کا علاج روایتی انجیوگرافی کی بنیاد پر کیا گیا۔
تقریباً 18 ماہ تک مریضوں کی نگرانی کے بعد معلوم ہوا کہ فزیالوجی گائیڈڈ گروپ میں موت، دوبارہ دل کا دورہ، فالج یا شریان دوبارہ کھولنے کی ضرورت سمیت بڑے قلبی واقعات کی شرح 8.9 فیصد رہی، جبکہ روایتی طریقہ علاج والے گروپ میں یہ شرح 13.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ڈاکٹر عبدالحکیم کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ صرف انجیوگرافی میں شریان کی بندش نظر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں لازماً اسٹینٹ ڈالا جائے۔ علاج سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس رکاوٹ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی واقعی متاثر ہورہی ہے یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ روایتی انجیوگرافی کی بنیاد پر جن رکاوٹوں میں اسٹینٹ ڈالے جانے کا امکان تھا، جدید ٹیکنالوجی سے جانچ کے بعد ان میں سے تقریباً نصف میں اسٹینٹ کی ضرورت نہیں پائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی دل کے دورے کے علاج میں اہم تبدیلی لاسکتی ہے، کیونکہ اس سے غیر ضروری اسٹینٹس سے بچنے کے ساتھ مریضوں پر مالی بوجھ اور علاج سے وابستہ ممکنہ پیچیدگیاں بھی کم کی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحکیم نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کی انٹروینشنل کارڈیالوجی ٹیم نے اس عالمی تحقیق میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی سے 200 سے زائد مریضوں کی شرکت نے پاکستان کو اس بین الاقوامی کلینیکل ٹرائل کا نمایاں حصہ بنایا۔
ان کے مطابق یہ کامیابی کسی ایک ڈاکٹر کی نہیں بلکہ پوری طبی اور تحقیقی ٹیم کے ساتھ ان مریضوں کی بھی ہے جنہوں نے تحقیق میں حصہ لے کر مستقبل میں دل کے مریضوں کا علاج بہتر بنانے میں تعاون کیا۔
این آئی سی وی ڈی کے سابق چیف ایگزیکٹو اور آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوئٹہ کے سربراہ ڈاکٹر سہیل خان نے تحقیق کو پاکستان کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے طبی ماہرین اپنی تحقیق ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ میں شائع کرانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک سرکاری طبی ادارے میں کی جانے والی تحقیق کا اس عالمی جریدے میں شائع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب سہولتوں اور تربیت کی فراہمی سے پاکستانی ڈاکٹر عالمی طبی سائنس میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر سہیل خان کے مطابق پاکستان میں طبی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے مضبوط ریسرچ انفراسٹرکچر، کلینیکل ٹرائل یونٹس، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور واضح حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کا مریضوں کے لیے اہم پیغام یہ ہے کہ وہ صرف یہ جاننے پر اکتفا نہ کریں کہ ان کی شریان میں رکاوٹ ہے، بلکہ ڈاکٹر سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا اس رکاوٹ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی متاثر ہورہی ہے اور اسٹینٹ لگانا واقعی ضروری ہے۔