اسلام آباد: پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے چند روز بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں ہاؤس آفیسرز کے لیے فائر سیفٹی تربیت لازمی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ فائر سیفٹی تربیت کو ہاؤس جاب کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخصوص تربیتی اوقات مختص کیے جائیں گے۔
تربیتی پروگرام میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی مشقیں، مریضوں کا تحفظ اور آتشزدگی کی صورت میں محفوظ انخلا کے طریقہ کار شامل ہوں گے۔
تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور ٹیچنگ اسپتالوں کو طلبہ، ہاؤس آفیسرز، مریضوں، طبی عملے اور دیگر ملازمین کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاری کے انتظامات مضبوط بنانا ہوں گے۔
میڈیکل کالجز اور ٹیچنگ اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور محفوظ انخلاء کی باقاعدہ مشقیں بھی کرائی جائیں گی تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جاسکے۔
ہاؤس آفیسرز کو آگ لگنے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی، آگ بجھانے والے آلات کے استعمال، مقررہ انخلا کے راستوں پر عمل اور ہنگامی صورتحال میں مؤثر رابطہ کاری کی تربیت دی جائے گی۔
کونسل کے مطابق پروگرام کے نفاذ سے قبل طبی اداروں میں موجودہ فائر سیفٹی پروٹوکولز کا جامع جائزہ لیا جائے گا اور فوری بہتری کے متقاضی شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی نے تسلیم کیا کہ اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے اداروں میں فائر سیفٹی سے متعلق تعلیم، آگاہی اور ہنگامی تیاری کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ اسپتالوں میں زیر علاج انتہائی کمزور مریض آگ لگنے کی صورت میں طبی عملے کے فوری اور مؤثر ردعمل پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے میڈیکل اداروں پر زور دیا کہ وہ صرف ہنگامی امدادی ٹیموں پر انحصار کرنے کے بجائے آگ سے بچاؤ، مریضوں کے انخلا اور فوری ردعمل کے اپنے انتظامات بہتر بنائیں۔
پی ایم ڈی سی نے اپنے بیان میں پمز سانحے کا براہ راست حوالہ نہیں دیا، تاہم یہ فیصلہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور محفوظ انخلا کے ناقص انتظامات پر بڑھتے ہوئے سوالات کے دوران سامنے آیا ہے۔
صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام کو مستقبل میں میڈیکل طلبہ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور تمام طبی کارکنوں تک توسیع دینے کا بھی منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی دنیا بھر میں طبی کارکنوں کے لیے ایک بنیادی مہارت سمجھی جاتی ہے اور کونسل طبی اداروں میں محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول یقینی بنانا چاہتی ہے۔