مستقل بحرانوں میں گھری وزارتِ صحت

محمد وقار بھٹی

بظاہر وفاقی وزارتِ صحت میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ اجلاس ہو رہے ہیں، پریس ریلیزیں جاری ہو رہی ہیں اور اصلاحات کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، مگر اس ظاہری سرگرمی کی تہہ میں ایسے سنگین انتظامی بحران موجود ہیں جنہوں نے وزارت اور اس سے ملحقہ اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔

وزارتِ صحت اور اس سے ملحقہ اداروں میں اہم عہدے خالی ہیں، بھرتیاں بار بار منسوخ ہو رہی ہیں، ریگولیٹری ادارے مفلوج ہیں، سرکاری اسپتال بدانتظامی کا شکار ہیں اور قومی صحت پروگرام افرادی قوت اور مؤثر قیادت کے بغیر چلائے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزارتِ صحت خود ایک ایسے اسپتال کا منظر پیش کر رہی ہے جس میں کوئی مستقل انچارج ڈاکٹر موجود نہ ہو۔ اگرچہ وفاقی وزیر صحت کا ڈاکٹر ہونا ضروری نہیں، لیکن اسپتالوں، ادویات، ویکسی نیشن، بیماریوں کی نگرانی اور صحتِ عامہ کے ذمہ دار اداروں کو مستقل، اہل اور تکنیکی طور پر مضبوط قیادت کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا۔

بغور دیکھیں تو بحرانوں کی نشانیاں ہر طرف موجود ہیں۔ پمز کی نرسری میں آگ سے 14 نومولود بچوں کی موت، تقریباً چار سال سے مستقل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی عدم تعیناتی، قومی ادارۂ صحت میں مستقل چیف ایگزیکٹو اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی عدم موجودگی، اسلام آباد کے صحت ریگولیٹر کی تباہ حالی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں اہم بھرتیوں کی مسلسل منسوخی انہی بحرانوں کے مختلف پہلو ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی، تپ دق، ملیریا، ہیپاٹائٹس سی اور حفاظتی ٹیکہ جات کے قومی پروگرام بھی مستقل، اہل اور تجربہ کار تکنیکی قیادت کے بغیر چل رہے ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے مارچ 2025 میں وفاقی وزیر صحت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کے بعد تقریباً 18 ماہ میں وزارت کے اعلیٰ انتظامی ڈھانچے سے پانچ سیکریٹریز اور اسپیشل سیکریٹریز ہٹائے گئے، تبدیل ہوئے یا وزارت سے باہر کر دیے گئے۔

ان میں ندیم محبوب، مرزا ناصر الدین مشہود احمد، وقار الحسن، حامد یعقوب اور محمد اسلم غوری شامل ہیں۔ محمد اسلم غوری کو پمز کے سانحے کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا، لیکن مسئلہ کسی ایک افسر یا ایک سانحے تک محدود نہیں۔

جو وزارت بار بار اپنے انتظامی سربراہ تبدیل کرتی رہے، وہ طویل مدتی پالیسی کیسے بنا سکتی ہے، اسپتالوں کی نگرانی کیسے کر سکتی ہے، ادویات کے نظام کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے اور قومی صحت پروگراموں کو کس طرح مؤثر انداز میں چلا سکتی ہے؟ ڈیڑھ سال میں پانچ اعلیٰ سطحی تبدیلیاں اصلاحات نہیں بلکہ انتظامی عدم استحکام کی علامت ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ تقریباً چار سال سے مستقل اور مطلوبہ اہلیت رکھنے والے تکنیکی سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر رانا محمد صفدر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد یہ اہم منصب عارضی انتظامات، اضافی چارج اور ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

اس وقت ڈاکٹر محمد زعیم ضیاء ڈی جی ہیلتھ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جو گلگت بلتستان سے ڈیپوٹیشن پر وفاقی وزارتِ صحت میں آئے تھے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے پولی کلینک اسپتال کے ڈاکٹر ولی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی۔

ڈی جی ہیلتھ کے دفتر کو وباؤں سے نمٹنے کی تیاری، بیماریوں کی نگرانی، ویکسی نیشن، طبی ہنگامی حالات اور قومی صحت پالیسی کی قیادت کرنی چاہیے۔ لیکن 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں صحتِ عامہ کا یہ اہم ترین منصب مسلسل عارضی بندوبست کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

قومی ادارۂ صحت کی صورتِ حال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ ملک کا یہ مرکزی ادارہ طبی لیبارٹریوں، تحقیق، بیماریوں کی نگرانی، ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات کا ذمہ دار ہے، لیکن طویل عرصے سے مستقل چیف ایگزیکٹو اور اہم شعبوں کے مستقل ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بغیر کام کر رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کی سربراہی میں قائم نئے این آئی ایچ بورڈ سے توقع تھی کہ وہ ادارے کو بحران سے نکالے گا۔ تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی تقرری کے لیے امیدواروں کی تقرریوں کے عمل میں قواعد کی پابندی پر سوالات اٹھنے کے بعد پورا عمل تعطل کا شکار ہو گیا اور اب اسے دوبارہ شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

این آئی ایچ کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سلمان ایک قابلِ احترام پیتھالوجسٹ ہیں، لیکن اتنے بڑے قومی ادارے کو ایک مستقل اور بااختیار سربراہ درکار ہے۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو 14 نومولود بچوں کی موت کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تو ڈاکٹر سلمان کو پمز کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔

یہ بات بچے بھی جانتے ہیں کہ ایک شخص بیک وقت این آئی ایچ اور پمز جیسے دو بڑے اداروں کو مؤثر طور پر نہیں چلا سکتا۔ یہ انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ بدانتظامی کی علامت ہے۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی بھی شدید بحران میں مبتلا ہے۔ اسپتالوں اور لیبارٹریوں میں طبی معیار نافذ کرنے کے لیے قائم اتھارٹی کے بورڈ میں نجی اسپتالوں اور طبی اداروں سے وابستہ افراد کی موجودگی کے باعث مفادات کے ٹکراؤ کے سنگین سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اس کے چیئرمین ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ بیشتر بورڈ ارکان کے ساتھ مستعفی ہو چکے ہیں۔ اب ریگولیٹر ایک ایسے جونیئر افسر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس کے پاس اسلام آباد کے بااثر اسپتالوں اور لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار بظاہر محدود ہے۔

جو ریگولیٹر طاقتور طبی اداروں کو ریگولیٹ نہ کر سکے، وہ مریضوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ ایسا ادارہ اصلاحات کے بجائے موجودہ خراب نظام کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

پمز، وفاقی حکومت کا پولی کلینک، سی ڈی اے اسپتال اور دیگر سرکاری طبی ادارے بھی کمزور انتظامی ڈھانچے، منقسم اختیارات، عملے کے تنازعات اور طاقتور گروہوں کے مفادات کی زد میں ہیں۔

اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں اربوں روپے سے بنائے گئے اسپتال اور بنیادی مراکزِ صحت بھرتیاں نہ ہونے کے باعث یا تو بند ہیں یا اپنی پوری استعداد کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ عمارتیں موجود ہیں، طبی آلات موجود ہیں اور مریض بھی موجود ہیں، لیکن عملہ نہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں بھرتیوں کا عمل، اطلاعات کے مطابق، تیسری مرتبہ منسوخ ہو چکا ہے۔ ادارے میں ڈائریکٹرز، انسپکٹرز اور دیگر تکنیکی افسران کی شدید کمی ہے، جبکہ اسے اکتوبر میں عالمی ادارۂ صحت کے اہم میچورٹی لیول تھری انسپیکشن کا سامنا ہے۔

ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا پروگراموں میں ضروری ماہرین اور تکنیکی عملہ موجود نہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی قومی مہم مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکی، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کا پروگرام بھی مستقل اور میرٹ پر منتخب قیادت کے بجائے ڈیپوٹیشن اور عارضی انتظامات کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جہاں ایک طاقتور وزیر کے بھائی کو عارضی چارج دیا گیا ہے۔

گلوبل فنڈ کے تعاون سے چلنے والے ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا پروگراموں کی نگرانی کرنے والے کامن مینجمنٹ یونٹ میں مسلسل تبدیلیاں بھی اسی عدم استحکام کی مثال ہیں۔ گلوبل فنڈ کے دفتر برائے انسپکٹر جنرل کے مطابق زیرِ جائزہ تین سالہ گرانٹ مدت کے دوران یونٹ کا نیشنل کوآرڈی نیٹر 10 مرتبہ اور ایچ آئی وی پروگرام کا ڈپٹی نیشنل کوآرڈی نیٹر چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے الگ سے نشاندہی کی کہ 2015 سے 2023 کے دوران ایچ آئی وی، ٹی بی اور ملیریا کے لیے گلوبل فنڈ کی 122 ارب روپے سے زائد امداد کمزور نگرانی اور انتظامی ناکامیوں کے باعث یا تو ضائع ہوئی، بروقت حاصل نہ کی جا سکی یا پوری طرح استعمال نہیں ہوئی۔

وفاقی وزارتِ صحت کو ہر نئے سانحے کے بعد کسی نئی کمیٹی، ایک اور انکوائری یا مزید انتظامی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ اسے مستقل، اہل، بااختیار اور آزاد قیادت کی ضرورت ہے۔

جب تک اہم اداروں میں میرٹ پر مستقل تقرریاں نہیں ہوتیں، ہر خالی عہدہ صحتِ عامہ کے لیے خطرہ رہے گا۔ ہر قابلِ تدارک موت ہمیں یہی یاد دلاتی رہے گی کہ نظام ہنگامی صورتِ حال پیدا ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے ناکام ہو چکا تھا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں