کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ساؤتھ نے جمعہ کی شام اسپتال کا دورہ کیا اور مختلف حصوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا معائنہ کیا۔
اسپتال میں کام کرنے والے ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معائنے سے قبل اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ناصر سلیم سڈل کی جانب سے تمام انتظامات درست قرار دیے گئے تھے، تاہم موقع پر کیے گئے معائنے کے دوران فائر سیفٹی انتظامات میں متعدد خامیاں سامنے آئیں۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں موجود بعض فائر سیفٹی آلات کی میعاد 2022 میں ختم ہوچکی ہے، جبکہ عمارت کے ایمرجنسی ایگزٹ گیٹس بھی مبینہ طور پر مستقل بند رکھے جاتے ہیں۔
معائنے کے دوران ایمرجنسی ایگزٹ کے قریب موجود لائٹس بھی خراب پائی گئیں، جبکہ ایمرجنسی راستے میں کچرا موجود ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی۔ ایسی صورتحال میں کسی ہنگامی واقعے کے دوران مریضوں، خصوصاً بچوں اور نوزائیدہ بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
این آئی سی ایچ میں فائر سیفٹی انتظامات کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسپتال کے مختلف حصوں میں ماضی میں آتشزدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اسپتال کی پانچویں اور تیسری منزل، نرسری اور برنز یونٹ میں بھی آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان واقعات کے باوجود فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات میں موجود خامیوں نے اسپتال کی مجموعی حفاظتی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق این آئی سی ایچ ایک اہم وفاقی طبی ادارہ ہے جہاں بڑی تعداد میں بچوں اور نوزائیدہ مریضوں کو علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسے ادارے میں فائر الارم، فائر اسٹنگوشرز، ایمرجنسی ایگزٹس اور انخلا کے راستوں کا فعال اور ہر وقت قابلِ استعمال ہونا انتہائی اہم ہے۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ این آئی سی ایچ کے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری طور پر آزادانہ اور جامع آڈٹ کرایا جائے، ماضی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا جائے اور ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ آلات، الارم سسٹم، بجلی کی تنصیبات اور انخلا کے طریقہ کار کو فوری طور پر مؤثر بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کے اسپتال میں فائر سیفٹی محض انتظامی ضابطہ نہیں بلکہ براہِ راست مریضوں کی زندگیوں سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کے بعد ان کا فوری ازالہ ضروری ہے۔