ٹائپ ون ذیابیطس بچوں کے لیے میئر کراچی کے اہم اعلانات، کے ایم سی اسپتالوں میں سہولتیں دینے کا فیصلہ

کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں اور ان کے والدین کے لیے اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کی سہولت کے لیے عباسی شہید اسپتال سمیت کے ایم سی کے دیگر اسپتالوں میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کو جگہ فراہم کی جائے گی، جبکہ ایسوسی ایشن کے دفتر کے اطراف کی سڑکیں بھی ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کی جائیں گی۔

ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادی کی مناسبت سے ٹائپ ون ذیابیطس کے کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو پاپوش نگر آنے کی زحمت سے بچانے کے لیے کے ایم سی کے اسپتالوں میں ایسوسی ایشن کو سہولت فراہم کی جائے گی۔

میئر کراچی نے ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن کو ذاتی طور پر ڈونیشن دینے اور مالی معاونت کی بھی پیشکش کی۔ انہوں نے بچوں کو کے ایم سی کی اسپورٹس سہولیات، جن میں سوئمنگ اور پیڈلز سمیت دیگر سہولتیں شامل ہیں، استعمال کرنے کی دعوت بھی دی۔

مرتضیٰ وہاب نے بچوں کی جانب سے بنائی گئی پینٹنگز کو کے ایم سی کونسل ہال میں آویزاں کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بچوں کو اپنے دفتر آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ انہیں شوگر فری چاکلیٹس کھلائیں گے۔
تقریب میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر زمان شیخ، لیفٹیننٹ کرنل (ر) افتخار نوری، جنید آفتاب اور عبدالستار عثمان سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
میئر کراچی نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنے ذاتی تجربے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 25 سال کی عمر میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔ وزن کم ہونے پر والدہ کے مشورے سے ٹیسٹ کروایا تو شوگر کی بیماری کا علم ہوا، جس پر وہ بہت روئے۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ان کے والد، جو خود ڈاکٹر تھے، نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ اسے منفی انداز میں نہ لو، یہ زندگی کا حصہ ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے میٹھا چھوڑ دیا، روزانہ واک کرتے ہیں اور ادویات کے ذریعے شوگر کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے بچوں سے کہا کہ وہ لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم کی طرح اپنے آپ کو ایمبیسیڈر سمجھیں۔ صحت کا خیال رکھ کر وہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط نے کہا کہ ٹائپ ون ذیابیطس کو بیماری سمجھنے کے بجائے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں بیمار نہ کہا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انسولین کی دریافت کو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، دنیا چاند تک پہنچ گئی اور ٹیکنالوجی نے بے مثال ترقی کی، تاہم انسولین کی گولی اب تک نہیں بن سکی کیونکہ انسولین ایک پروٹین ہے، جس کے باعث اسے انجیکشن کے ذریعے دینا پڑتا ہے۔

پروفیسر عبدالباسط نے بتایا کہ ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے قیام کو 50 سال مکمل ہوچکے ہیں اور یہ عالمی ادارہ صحت کے دنیا بھر میں موجود 10 سے 12 مراکز میں سے ایک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن سندھ میں 2500 جبکہ بلوچستان میں 400 بچوں کو مفت انسولین، گلوکومیٹر اور ادویات فراہم کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین دل چھوٹا نہ کریں، ان بچوں کو صرف انسولین کی کمی ہے اور یہ بچے بڑے ہوکر مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن کی نائب صدر شبین ناز مسعود نے کہا کہ دنیا کے کئی نامور اداکار اور کھلاڑی ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی شوگر بھی بہترین کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹائپ ون ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے والدین کی ذمہ داریاں ضرور بڑھ جاتی ہیں، تاہم بہتر شوگر مینجمنٹ کے ذریعے یہ بچے عام افراد کی طرح کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔

شبین ناز مسعود نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کے لیے اسکول کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ ڈائٹ چارٹ بنایا جائے، ان کے ساتھ تعاون کیا جائے اور انہیں کھیل کود یا روزمرہ کی سرگرمیوں سے ہرگز نہ روکا جائے۔

تقریب کے اختتام پر بچوں نے اپنی تیار کردہ پینٹنگز میئر کراچی کو پیش کیں، جبکہ مرتضیٰ وہاب نے بہترین پینٹنگز بنانے والے بچوں میں اول، دوم اور سوم انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر تمام بچوں میں شوگر فری چاکلیٹس بھی تقسیم کی گئیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں