کراچی: پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) بھی متحرک ہوگئی، کے ایم سی کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ماتحت تمام طبی اداروں اور اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات فوری طور پر مؤثر بنانے کی ہدایت کردی۔
کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کی جانب سے 27 اگست کو جاری کیے گئے مراسلے میں ڈائریکٹر میڈیکل سروسز، عباسی شہید اسپتال، ہومیوپیتھک اسپتال، تمام اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور لیاری کے انچارج پی ایچ سی سی کو فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لینے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق تمام اسپتالوں میں مناسب تعداد میں فائر ایکسٹنگوشرز دستیاب اور ایسی جگہوں پر نصب کیے جائیں جہاں ضرورت کے وقت انہیں آسانی سے استعمال کیا جاسکے۔ خصوصی طور پر وارڈز، آپریشن تھیٹرز، لیبارٹریز، اسٹورز، کچن، الیکٹرک رومز اور دیگر حساس و زیادہ خطرے والے مقامات پر فائر ایکسٹنگوشرز کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
کے ایم سی نے اسپتالوں میں فائر الارم اور فائر ڈیٹیکشن سسٹم کی تنصیب کے ساتھ ان کی مکمل فعالیت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان نظاموں کی باقاعدگی سے ٹیسٹنگ کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وہ مؤثر طریقے سے کام کرسکیں۔
تمام اسپتالوں میں واضح طور پر نشان زدہ ایمرجنسی فائر ایگزٹس اور فرار کے راستے ہر وقت کھلے اور قابل استعمال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ایمرجنسی راستوں پر مناسب روشنی کا انتظام کرنے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے میں مریضوں، تیمارداروں اور اسپتال کے عملے کی رہنمائی کے لیے ایمرجنسی ایویکیویشن پلان اور فائر سیفٹی سے متعلق ہدایات نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کے ایم سی نے اسپتالوں کی عمارتوں میں موجود فائر ہیزرڈز اور ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کرکے فوری طور پر اصلاحی اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا ہے، تاکہ آگ لگنے کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
مراسلے کے مطابق اسپتالوں کی بجلی کی تنصیبات، وائرنگ، جنریٹرز، کچن، آکسیجن کے ذخیرہ اور استعمال کی جگہوں سمیت دیگر ممکنہ خطرناک مقامات کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
کے ایم سی نے اسپتال کے عملے کے لیے باقاعدگی سے فائر سیفٹی ڈرلز اور تربیتی پروگرامز منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، تاکہ کسی بھی آتشزدگی کی صورت میں عملہ فوری ردعمل دے سکے اور مریضوں و آنے والے افراد کو محفوظ طریقے سے اسپتال سے باہر نکال سکے۔
تمام طبی اداروں کے سربراہان اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ فائر سیفٹی سے متعلق تمام اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اپنے اداروں میں حفاظتی انتظامات کی دستیابی اور فعالیت کی مسلسل نگرانی کی جائے۔
کے ایم سی نے تمام متعلقہ اداروں سے فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تصدیق شدہ کمپلائنس رپورٹ تین روز کے اندر سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ فائر سیفٹی کے ضروری انتظامات برقرار رکھنے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
مراسلے کی نقول کراچی کے میئر، میونسپل کمشنر کے ایم سی، ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ اکاؤنٹس اور ڈائریکٹر کلینیکل میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز کو بھی ارسال کردی گئی ہیں۔