کراچی: اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نرسری میں آتشزدگی کے واقعے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات محض حادثہ نہیں بلکہ انتظامی نااہلی ہیں۔ پی ایم اے نے پمز انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ عدالت کے جج کی سربراہی میں شفاف تحقیقات، سینئر انتظامی افسران کی معطلی اور ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی طبی مراکز کے تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایم اے سینٹرل کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو، پی ایم اے کراچی کے صدر ڈاکٹر اسماعیل میمن، ڈاکٹر شبین ناز مسعود، سیکریٹری آبس اینڈ گائنی، اور ڈاکٹر شیر شاہ، پریذیڈنٹ الیکٹ پی ایم اے، نے پمز واقعے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ اسلام آباد کے سانحے پر پوری ڈاکٹر کمیونٹی دکھی ہے، اسے محض حادثہ یا واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر اسپتال میں ہنگامی راستے بند ہوں اور فائر سیفٹی سسٹم فعال نہ ہو تو یہ انتظامی نااہلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز ایک اہم وفاقی ادارہ ہے، اگر یہاں ہنگامی راستے فعال نہیں اور فائر سیفٹی کا مؤثر نظام موجود نہیں تو یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے۔ پمز جیسے بڑے ادارے کی صورتحال ایسی ہے تو پسماندہ علاقوں کے اسپتالوں میں حالات کتنے تشویش ناک ہوں گے۔
ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ ملک بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں فائر سیفٹی کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں آتشزدگی سے این آئی سی ایچ میں مشینری کو نقصان پہنچا، جبکہ لیاقت آباد اسپتال کے واقعے میں چار ملازمین جاں بحق ہوئے۔ این آئی سی ایچ کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں ایک بچہ بھی جاں بحق ہوچکا ہے، ایسے کئی واقعات ملک بھر کے اسپتالوں میں رپورٹ ہوچکے ہیں۔
پی ایم اے سینٹرل کے سیکریٹری جنرل نے مطالبہ کیا کہ پمز انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ عدالت کے جج کی سربراہی میں شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور پمز کے ذمہ دار سینئر افسران کو معطل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام سرکاری طبی مراکز کا فوری طور پر آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔
ڈاکٹر شبین ناز مسعود نے کہا کہ کسی ایک شخص کو معطل کردینا مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق جب سے اسپتال قائم ہوا ہے، انتظامیہ کو ایمرجنسی ایگزٹ کا علم تو ہونا چاہیے، لیکن 1999 سے فائر سیفٹی ڈرل کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حادثات سے قبل تدارک کے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری ہیلتھ کو معطل کرنے سے کیا حاصل ہوگا، جب بنیادی سوال اسپتال کے اندر موجود حفاظتی انتظامات اور ذمہ دار انتظامیہ کا ہے۔
ڈاکٹر شبین ناز مسعود نے پمز واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ 14 بچوں کی اموات کے بعد ان کے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حادثے کے وقت نرسری میں تعینات ڈاکٹرز اور عملہ کہاں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی مناسب تربیت اور نظام موجود ہوتا تو ڈاکٹرز اور نرسز ایک ایک بچے کو اٹھا کر نرسری سے باہر نکال سکتے تھے۔
ڈاکٹر شیر شاہ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت ہر جاں بحق بچے کے والدین کو فوری طور پر پانچ، پانچ کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی اموات ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور متاثرہ والدین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیکریٹری کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں، اسپتال کے ایم ایس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انہیں معطل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں غریبوں کے اسپتالوں میں غریب عوام کے ساتھ سب سے برا سلوک ہوتا ہے اور ہر غریبوں کے اسپتال میں یہی صورتحال نظر آتی ہے۔
پی ایم اے کراچی کے صدر ڈاکٹر اسماعیل میمن نے کہا کہ تمام ڈاکٹرز اس واقعے پر بہت دکھی ہیں۔ ایسے واقعات بار بار پیش آنے کی ایک وجہ نااہل افراد کی بھرتی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سیفٹی کے حوالے سے تربیت اور ڈرلز کرائی جاتی ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ کئی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو فائر سیفٹی کے آلات چلانا تک نہیں آتے۔ ایسے واقعات میں مریضوں کے ساتھ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی زندگیاں بھی داؤ پر لگی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ نے کہا کہ اسپتال میں حفاظتی انتظامات کی بنیادی ذمہ داری ایم ایس کی ہے، جبکہ ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ اسپتالوں کی نگرانی اور ریگولیشن میں ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کا بھی اہم کردار ہے۔
ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کا بورڈ گزشتہ آٹھ ماہ سے موجود نہیں اور ادارہ صرف چیف ایگزیکٹو افسر کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بے ہوشی کے ڈاکٹروں کا مینجمنٹ کیڈر سے کیا تعلق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا ہیلتھ کیئر سسٹم مختلف اداروں کے حوالے کردیا گیا ہے اور بنیادی صحت مراکز بھی پی پی ایچ آئی کو دے دیے گئے ہیں۔
پی ایم اے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پمز آتشزدگی واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ دار اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی اور ملک بھر میں اسپتالوں کے سیفٹی آڈٹ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
پی ایم اے نے خبردار کیا کہ اگر واقعے کے ذمہ دار اعلیٰ حکام کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر کی طبی برادری متحد ہوکر ملک گیر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔
پی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اسپتال شفا اور علاج کے مراکز ہونے چاہئیں، ایسی جگہیں نہیں جہاں انتظامی ناکامی کی قیمت معصوم بچوں اور مریضوں کو اپنی جانوں سے ادا کرنا پڑے۔