اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ مرکز میں بدھ کی صبح آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ہسپتال انتظامیہ کو فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں سے خبردار کرتے ہوئے حفاظتی آلات کی تنصیب اور ضروری اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی تھی۔
سی ڈی اے کے کیپیٹل ایمرجنسی سروس، فائر ہیڈکوارٹرز کی جانب سے پمز انتظامیہ کو بھیجے گئے مراسلے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہسپتال کو فائر سیفٹی کے حوالے سے پہلا دستیاب نوٹس جون 2012 میں جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد 2018، 2023 اور 2024 میں بھی متعدد نوٹسز اور معائنے کیے گئے، تاہم سی ڈی اے کے مطابق بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود تجویز کردہ حفاظتی اقدامات پر جامع عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بدھ کی صبح پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) سینٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا۔ حکام کے مطابق آگ صبح تقریباً پونے سات بجے لگی اور چھ فائر بریگیڈ گاڑیوں اور چار ایمبولینسز نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ (Associated Press of Pakistan)
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ابتدائی طور پر واقعے کو ایئرکنڈیشنر میں دھماکے سے منسوب کیا ہے، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ اور اس قدر تیزی سے پھیلنے کے عوامل کا تعین انکوائری کے بعد کیا جائے گا۔ (Dawn)
واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا اور سابق وفاقی سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ وزیراعظم نے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔ (Radio Pakistan)
تاہم پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق سامنے آنے والا ریکارڈ اس سانحے کو محض ایک اچانک پیش آنے والے حادثے کے بجائے ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور ماضی میں جاری کیے گئے انتباہات پر عملدرآمد کے تناظر میں بھی اہم بنا رہا ہے۔
سی ڈی اے کے کیپیٹل ایمرجنسی سروس، فائر ہیڈکوارٹرز کی جانب سے پمز کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر میڈیکل کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سی ڈی اے کی ٹیمیں ہسپتال کے متعدد ایمرجنسی آڈٹ کر چکی ہیں اور آگ سے بچاؤ اور جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری فائر پروٹیکشن آلات نصب کرنے کی سفارشات مسلسل پمز انتظامیہ کو بھجوائی جاتی رہی ہیں۔
مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ پمز کی جانب سے ان سفارشات پر کیے گئے اقدامات کے حوالے سے سی ڈی اے کو کوئی جامع جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی مطلوبہ اقدامات کی تکمیل سے آگاہ کیا گیا۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق پمز انتظامیہ کو 28 جون 2012، 15 فروری 2018، 17 مئی 2018، 8 اگست 2023 اور 9 مئی 2024 کو فائر سیفٹی سے متعلق نوٹس جاری کیے گئے جبکہ 23 دسمبر 2024 کو فالو اپ انسپیکشن بھی کیا گیا۔
سی ڈی اے نے پمز انتظامیہ سے کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ آتشزدگی کی صورت میں ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پہلے سے تجویز کردہ فائر سیفٹی آلات کی تنصیب فوری طور پر مکمل کی جائے۔
مراسلے میں اسلام آباد فائر پریونشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 اور ایس آر او 70(I)/2011 کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ حفاظتی ضوابط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے نے یہاں تک واضح کر دیا تھا کہ محفوظ عمارت کے لیے ضروری سفارشات پہلے ہی پمز انتظامیہ کو فراہم کی جا چکی ہیں اور ان پر عملدرآمد میں تاخیر کے باعث کسی آفت یا آتشزدگی کی صورت میں اتھارٹی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی۔
پمز میں آگ سے نمٹنے اور حادثات کی تحقیقات کے حوالے سے خامیوں کی نشاندہی اس سے قبل ہسپتال کی اپنی ایک انکوائری میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
پمز کے ہاسٹل میں آتشزدگی کے ایک سابقہ واقعے کی انکوائری رپورٹ کے مطابق کمیٹی آگ لگنے کی اصل وجہ تک پہنچنے میں ناکام رہی کیونکہ واقعے کے بعد نہ کوئی الیکٹریکل انسپیکشن رپورٹ پیش کی گئی، نہ فائر بریگیڈ کی رپورٹ موجود تھی، نہ انجینئرنگ اسیسمنٹ کرائی گئی اور نہ ہی بجلی کی تنصیبات کی مرمت اور دیکھ بھال کا ریکارڈ فراہم کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جائے وقوعہ کی تصاویر اور دیگر شواہد بھی محفوظ نہیں کیے گئے جبکہ کوئی فرانزک ثبوت دستیاب نہیں تھا، جس کے باعث یہ حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکا کہ آگ بجلی کی خرابی، حادثاتی طور پر آگ لگنے، انسانی غفلت یا کسی دانستہ عمل کا نتیجہ تھی۔
اسی انکوائری میں سکیورٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے وقت سکیورٹی اہلکار ہاسٹل کے فوری اطراف میں موجود نہیں تھے اور ابتدائی ہنگامی ردعمل ہاسٹل کے رہائشیوں اور باورچی کی جانب سے آیا تھا۔
کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ابتدائی انخلا کے دوران بعض رہائشی عمارت کے اندر موجود رہے، مرکزی دروازہ بند تھا اور انخلا میس کے راستے کیا گیا۔ کمیٹی نے قرار دیا تھا کہ رات کے اوقات میں معمول کی گشت مسلسل سکیورٹی موجودگی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
بدھ کے سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے بھی فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج کے انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ بعض لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ دروازے بند تھے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی اور انکوائری میں ہنگامی اخراج، فائر سیفٹی اور ریسپانس کے انتظامات کا جائزہ لیا جانا ہے۔ (Arab News)
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ دار افراد کے تعین اور ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی پروٹوکول مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ (Associated Press of Pakistan)
ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط سی ڈی اے کے انتباہات، پمز میں سابقہ آتشزدگی کی انکوائری میں سامنے آنے والی خامیوں اور اب 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ فائر سیفٹی سے متعلق بار بار جاری کیے گئے نوٹسز پر کس حد تک عمل ہوا اور اگر مطلوبہ اقدامات مکمل نہیں کیے گئے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، جس کا تعین اب اعلیٰ سطح کی انکوائری میں کیا جانا ہے۔