کراچی: پاکستان میں فالج (اسٹروک) تیزی سے صحتِ عامہ کا ایک بڑا بحران بنتا جا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک کی 4.8 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 91 لاکھ افراد فالج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں دل کی شریانوں کی بیماری (اسکیمک ہارٹ ڈیزیز) کے بعد فالج پاکستان میں اموات کی دوسری بڑی وجہ تھا، جس کے باعث تقریباً 99 ہزار 759 افراد جاں بحق ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ہر چار میں سے ایک مرد اور ہر تین میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر فالج کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اسی بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے، نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور ملک میں اسٹروک کیئر کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان اسٹروک سوسائٹی (PSS) اور فارم ایوو کے درمیان "لیڈرز ٹریک نیورولوجی 2.0” کے انعقاد کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبد المالک نے کہا کہ پاکستان جیسے 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں اس وقت صرف 250 سے 260 نیورولوجسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان میں سے کئی بیرون ملک بھی کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک نیورولوجسٹ پر 10 لاکھ سے زائد افراد کا بوجھ آتا ہے، جو اسٹروک جیسے جان لیوا مرض کے مؤثر علاج میں ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ایک لاکھ افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2021 میں فالج پاکستان میں دل کی شریانوں کی بیماری کے بعد اموات کی دوسری بڑی وجہ تھا اور اس سال تقریباً 99 ہزار 759 افراد فالج کے باعث جاں بحق ہوئے۔ ڈاکٹر عبد المالک کے مطابق ہر چار میں سے ایک مرد اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو زندگی میں فالج کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص، اسٹروک یونٹس کے قیام اور تربیت یافتہ نیورولوجسٹ کی تعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لیڈرز ٹریک نیورولوجی 2.0 آئندہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک کے 16 شہروں میں منعقد ہوگا اور اکتوبر 2027 میں گرینڈ فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ اس دوران پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ حاصل کرنے والے نوجوان ڈاکٹر پیچیدہ اسٹروک کیسز پیش کریں گے، جن کا جائزہ ملک کے ممتاز نیورولوجسٹ اور اسٹروک ماہرین لیں گے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد صرف مقابلہ کرانا نہیں بلکہ نوجوان ڈاکٹروں میں کلینیکل سوچ، سائنسی تحقیق، کیس پریزنٹیشن، فیصلہ سازی اور مؤثر ابلاغ کی صلاحیتوں کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ مستقبل میں پاکستان کو زیادہ تربیت یافتہ اسٹروک اسپیشلسٹ میسر آ سکیں۔
پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شفیق سلیم نے کہا کہ پاکستان میں فالج کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اب نوجوان آبادی بھی تیزی سے اس بیماری کی لپیٹ میں آ رہی ہے، جس کے معاشی اور سماجی اثرات پورے خاندان کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کی حکمت عملی صرف اسپتالوں میں علاج تک محدود نہیں بلکہ عوامی آگاہی، بیماری سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور علاج تک رسائی بہتر بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوسائٹی ڈیجیٹل ہیلتھ، ٹیلی میڈیسن، جنرل فزیشنز اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی مریض ماہر نیورولوجسٹ کی رہنمائی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام فالج کی علامات کو بروقت پہچان کر فوری اسپتال پہنچ جائیں تو ہزاروں افراد کو مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے نائب صدر سندھ اور سول اسپتال کراچی کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر جے سنگھ رانا نے کہا کہ سندھ کے بیشتر ضلعی اسپتالوں میں نہ اسٹروک یونٹس موجود ہیں اور نہ ہی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہیں، جس کے باعث مریضوں کو کراچی یا حیدرآباد منتقل کرنا پڑتا ہے اور قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے جناح اسپتال اور سول اسپتال کے علاوہ حیدرآباد میں اسٹروک یونٹس فعال ہیں جبکہ سکھر اور چانڈکا میڈیکل کالج میں بھی نئی سہولیات قائم کی جا رہی ہیں۔ تاہم سندھ کے ہر ڈویژن اور ضلعی اسپتال میں اسٹروک یونٹس، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور تربیت یافتہ عملہ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر سمیت دور افتادہ علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ماہرین کو مقامی ڈاکٹروں سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔
ڈاکٹر جے سنگھ رانا نے عوام پر زور دیا کہ فالج کی علامات ظاہر ہوتے ہی مریض کو ساڑھے چار گھنٹے کے اندر اسپتال پہنچایا جائے کیونکہ بروقت علاج سے مستقل معذوری سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عاملوں، دھاگوں اور غیر سائنسی علاج سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی۔
اس
موقع پر فارم ایوو کے ڈائریکٹر کمرشل عبد الصمد نے کہا کہ فارم ایوو پاکستان میں طبی تعلیم اور طبی تحقیق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈرز ٹریک نیورولوجی 2.0 نوجوان نیورولوجسٹ کو بین الاقوامی معیار کی تربیت، پیچیدہ اسٹروک کیسز سے سیکھنے اور مختلف اداروں کے ماہرین سے علمی تبادلے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ فارم ایوو ملک بھر میں پروگرام کے لیے لاجسٹک، تکنیکی معاونت، آڈیو ویژول سہولیات، مختلف چیپٹرز کے درمیان رابطے، کیسز کے انتظام اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بہترین کیس پریزنٹیشنز کے لیے پہلا انعام ایک لاکھ روپے، دوسرا انعام 75 ہزار روپے اور تیسرا انعام 50 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اشتراک کا مقصد صرف تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد نہیں بلکہ پاکستان میں اسٹروک کیئر کے معیار کو بہتر بنانا، نوجوان ڈاکٹروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور بالآخر فالج سے ہونے والی اموات اور معذوری میں کمی لانا ہے۔