پنجاب میں تعلیم کے فروغ سے کزن میرج کا رجحان کم ہونے لگا، ہر 10 میں سے 6 شادی شدہ خواتین نے رشتہ داروں میں شادی کی

اسلام آباد: پنجاب میں خون کے رشتوں، خصوصاً فرسٹ کزن میں شادیوں کا رجحان اب بھی نمایاں ہے، تاہم گیلپ پاکستان کی نئی رپورٹ کے مطابق خواتین اور مردوں میں تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ کزن میرج کی شرح میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس کی جانب سے پنجاب ہاؤس ہولڈ پینل سروے (PHPS) کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں 18 ہزار 599 شادی شدہ خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 61.7 فیصد خواتین نے اپنے کسی خون کے رشتہ دار سے شادی کی، جبکہ ان میں سے تقریباً 49 فیصد شادیاں فرسٹ کزنز (چچا، پھوپھی، ماموں یا خالہ کے بچوں) سے ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کزن میرج کے رجحان میں کمی کا اہم عنصر ثابت ہوئی۔ غیر تعلیم یافتہ خواتین میں خون کے رشتوں میں شادی کی شرح 69 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی خواتین میں یہ تناسب کم ہو کر 48 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح شوہروں کی اعلیٰ تعلیم بھی کزن میرج کی کم شرح سے منسلک پائی گئی۔

تحقیق میں کم عمری کی شادی اور کزن میرج کے درمیان بھی واضح تعلق سامنے آیا۔ 16 سال سے کم عمر میں شادی کرنے والی لڑکیوں میں خون کے رشتوں میں شادی کی شرح 72 فیصد تھی، جبکہ 26 سال یا اس سے زیادہ عمر میں شادی کرنے والی خواتین میں یہ تناسب کم ہو کر 51 فیصد رہ گیا۔

رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں خون کے رشتوں میں شادیوں کا رجحان شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کی 65.7 فیصد خواتین نے رشتہ داروں میں شادی کی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 54 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی معاشرے میں خاندانی رشتوں کے اندر شادی کی روایت اب بھی نسبتاً مضبوط ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق قریبی خون کے رشتوں میں شادیوں سے بعض موروثی اور جینیاتی بیماریوں کے بچوں میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم اس خطرے کا انحصار مختلف طبی اور خاندانی عوامل پر ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کے فروغ، عوامی آگاہی اور کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی سے کزن میرج کے رجحان میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں