کراچی: بالائی سندھ کے ضلع خیرپور اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ دس روز کے دوران بچوں میں جلدی بیماری کے کم از کم نو مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد ایک ممکنہ ایم پاکس (Mpox) کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، تاہم صوبائی محکمہ صحت نے صورتحال کو منظرعام پر لانے اور قومی اداروں کو اعتماد میں لینے کے بجائے آغا خان یونیورسٹی لیب سے تشخیص میں مدد کی درخواست کر دی-
محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق خیرپور، گمبٹ اور لاڑکانہ کے مختلف علاقوں سے ایسے بچوں کو سرکاری اور نجی اسپتالوں میں لایا جا رہا ہے جن کے جسم پر غیر معمولی زخم اور دانے ظاہر ہو رہے ہیں، جو عام بیماریوں جیسے چکن پاکس یا خسرہ سے مختلف ہیں اور ماہرین کے مطابق ایم پاکس سے مماثلت رکھتے ہیں۔
گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے شعبہ اطفال میں جمعہ کے روز ایک بچے کو لایا گیا جس کی علامات نے ڈاکٹروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ مقامی ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ایسے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ایک باضابطہ مراسلے میں آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹری سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ خیرپور سے رپورٹ ہونے والے مشتبہ کیسز کے نمونوں کی فوری جانچ میں معاونت فراہم کرے-
دوسری جانب ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ قومی اداروں کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے جبکہ وفاقی سطح پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز دونوں ایم پاکس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتے ہیں-
دونوں اداروں کے حکام کے مطابق انہیں سندھ سے ایم پاکس کے کوئی سیمپل موصول نہیں ہوئے-
ماہرین کے مطابق محکمہ صحت سندھ اور اس کے فیلڈ ایپیڈیمولوجی اینڈ لیبارٹری ٹریننگ پروگرام کے بعض افسران نے سرکاری و نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بیماری سے متعلق معلومات میڈیا یا وفاقی اداروں کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
گمبٹ کے ایک ماہر اطفال نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “بچوں میں نظر آنے والی علامات عام وائرل انفیکشن نہیں لگتیں، بلکہ یہ ایم پاکس سے بہت حد تک ملتی جلتی ہیں، اور یہ کیسز بڑھ رہے ہیں”۔
ادھر وفاقی وزارت صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان سے بیماری پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں موجود امریکی ادارہ برائے انسداد امراض کے نمائندوں نے بھی سندھ میں ممکنہ کیسز کی تفصیلات طلب کیں لیکن انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں خیرپور یا گمبٹ سے کسی قسم کے نمونے موصول نہیں ہوئے، جس سے صورتحال مزید الجھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی بچوں میں ایچ آئی وی سمیت دیگر بیماریوں کا بوجھ زیادہ ہے، وہاں کسی بھی نئی متعدی بیماری کا پھیلاؤ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کچھ بچوں کی اموات بھی ہوئی ہیں، تاہم اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ دیہی علاقوں میں پوسٹ مارٹم کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کے باعث اصل صورتحال جاننا مشکل ہے۔
ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ وبا سے نمٹنے کے لیے شفاف معلومات، بروقت تشخیص اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے، اور معلومات کو چھپانے سے نہ صرف بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور نتائج سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا، تاہم زمینی حقائق اور بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ بیماری مزید پھیل سکتی ہے-