کینسر کی ادویات کی قیمتوں کے تعین میں تاخیر مریضوں کی جان لینے لگی

وفاقی حکومت کی جانب سے کینسر سے متعلق ادویات کی قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے ملک میں کینسر کے مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستان میں کینسر کی متعدد ادویات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض اسمگل شدہ ادویات بلیک مارکیٹ سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
دی نیوز کے نمائندہ خصوصی محمد وقار بھٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی جدید ادویات تک رسائی میں مشکلات کا سامنہ ہے۔ اس کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے ان ادویات کی قیتموں کا تعین نہ کرنا اور ان کی رجسٹریشن کا نوٹیفکشن جاری نہ کرنا ہے۔
فارماسیوٹیکل شعبے کے حکام کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے متعدد اہم ادویات کی قیمتیں کا تعین کر کے اس کی منظوری ڈریپ کے پالیسی بورڈ سے منظوری بھی حاصل کر لی ہے۔ اور حتمی منظوری کے لئے یہ سمری وزیر اعظم کے دفتر ارسال کی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اور قیمتوں کے تعین کا معاملہ ان کے زیر غور ہے۔ جس کی وجہ سے تاحال یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ اور کینسر سمیت متعدد اہم ادویات کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے۔ جب تک یہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوگا تب تک فارماسیوٹیکل کمپنیاں ان اہم جان بچانے والی ادویات کی پاکستان میں قانونی طور پر درآمد یا فروخت نہیں کرسکتے ہیں۔
جس کی وجہ سے خصوصا ملک میں کینسر کی ادویات کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مختلف نوعیت کے کینسر چھاتی، مثانہ، سر و گردن، پھیپھڑوں، میلانوما، سروائیکل، معدہ، کولوریکٹل اور ہاجکن لِمفوما کے علاج میں استعمال ہونے والی متعدد روایتی اور جدید ادویات اس وقت پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر ادویات جن کی قیمتوں کے اعلان کا انتظار ہے ان میں ٹاکرولیمس ہائیڈروکلورائیڈ (اعضاء کی پیوندکاری کے بعد ردعمل کو روکنے کے لیے) اور ویراپامِل ہائیڈروکلورائیڈ (دل کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائیفائیڈ وی آئی پولی سیکرائیڈ ویکسین، پولیو ویکسین اور نمونیا سے بچاؤ کی ویکسینز بھی اعلان کی منتظر ہیں۔
ملک میں رجسٹرڈ ادویات کی عدم دستیانی کی وجہسے مریضوں بھارت اور بنگلہ دیش سے اسمگل او غیر رجسٹرڈ ادویات کو گرے مارکیٹ سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
چونکہ ان ادویات کے اصل ورژن انتہائی مہنگے ہوتے ہیں، اس لیے مریض اکثرکم قیمت متبادل ادویات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ یہ ادویات پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہیں اورجس کی وجہ سے ان کے معیار، کولڈ اسٹوریج اور اصلیت کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ اور کینسر کی اہم ترین ادویات کی عدم دستیابی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے، ملک میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بدھانی نے کہا کہ مریض اکثر فارمیسیز سے ایسی ادویات کے بارے میں پوچھتے ہیں جو ملک میں رجسٹرڈ یا قانونی طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا، “جب مریض مجاز سپلائی چین سے ادویات حاصل نہیں کر پاتے تو وہ گرے مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں، جس سے جعلی ادویات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔”
ماہرین صحت اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے نمائندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے اعلان کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ کینسر سمیت دیگر جان بچانے والی ادویات کو قانونی طور پر پاکستان میں دستیاب بنایا جا سکے اور ضرورت مند مریضوں تک ان کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

کینسر کی ادویات کی قیمتوں کے تعین میں تاخیر مریضوں کی جان لینے لگی

سندھ میں 60 فیصد منشیات بحالی مراکز غیر رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف

کیا آپ جانتے ہیں خون کے گروپس کیا ہوتے ہیں؟